الشرع اور ٹرمپ کی ملاقات میں انسداد دہشت گردی پر بات چیت ہوئی : شامی وزارت خارجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شام کے صدر احمد الشرع کے درمیان بدھ کے روز ریاض میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد شامی وزارت خارجہ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پر بات چیت ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر الشرع اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں غیر ملکی ملیشیاؤں کے خاتمے، داعش اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی کے امور بھی زیرِ غور آئے۔
اسی سلسلے میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ملاقات کو "شامی قوم کی کامیابی" قرار دیا۔ انھوں نے "ایکس" پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ ""ہم اس کامیابی میں اپنی اس قوم کو شریک کرتے ہیں جس نے شام کو اس کے شایانِ شان مقام دلانے کے لیے قربانیاں دیں۔ اب عظیم شام کی طرف پیش قدمی کا آغاز ہو چکا ہے، والحمد للہ رب العالمین۔"
اس سے قبل امریکی صدر نے ریاض میں شامی ہم منصب احمد الشرع سے ملاقات کی۔ سعودی خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے" کی جانب سے اس ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ یہ ملاقات خلیجی-امریکی سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہوئی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اس ملاقات میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کی۔
تعلقات کی بحالی
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے خلیجی سربراہی اجلاس سے خطاب میں زور دے کر کہا کہ "شام سے تعلقات کی بحالی کا آغاز الشرع سے ملاقات سے ہوتا ہے"۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ نئی شامی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ شام پر سے پابندیاں اٹھانے کا مقصد اسے ایک نیا آغاز فراہم کرنا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر نے کل ریاض میں منعقدہ سعودی-امریکی کاروباری فورم میں اعلان کیا تھا کہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں.