آپ دنیا کی ستائش کا محور ہیں ... ٹرمپ کا خلیجی ممالک کی قیادت کو خراجِ تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آپ دنیا کی تحسین کا مرکز ہیں"۔ ٹرمپ نے یہ بات آج بدھ کے روز ریاض میں ہونے والے خلیجی-امریکی سربراہی اجلاس کے آغاز پر اپنے خطاب میں کہی۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ امن کے ذریعے خوش حال ہو سکتا ہے، اور اس خطے میں خلیجی ممالک مستحکم اور ترقی یافتہ ریاستوں کی صفِ اول میں شامل ہیں۔

شام سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ انھوں نے شہزادہ محمد بن سلمان سے مشاورت کے بعد شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کا حکم جاری کیا۔ امریکی صدر کے مطابق ان پابندیوں کے خاتمے سے شامی حکومت کو ایک عظیم موقع میسر آئے گا، اور وہ تمام پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن نئی شامی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران اور جوہری مسئلہ

ایرانی معاملے پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "میں تہران کے ساتھ ایک معاہدہ چاہتا ہوں، لیکن اسے دہشت گردی کی حمایت بند کرنا ہو گی"۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو خطے میں نیابتی جنگوں کی پشت پناہی بھی بند کرنا ہو گی۔ اس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکا نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے حوثی باغیوں کے خلاف ایک زبردست کارروائی کی ہے۔

لبنان ... اور حزب اللہ

لبنان کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا "لبنان میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے پاک مستقبل کا امکان موجود ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "لبنانی صدر ایک ایسی ریاست تشکیل دے سکتے ہیں جو حزب اللہ سے آزاد ہو"۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "نئے صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ لبنان کے پاس ایک نیا موقع موجود ہے"۔

یاد رہے کہ خلیجی ممالک کے سربراہان ، رہنما اور ان کے نمائندے بدھ کی صبح ریاض پہنچے تھے تا کہ خلیجی-امریکی سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ یہ دن دار الحکومت ریاض میں ملاقاتوں اور معاہدوں سے بھرپور رہا، جن میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان گفت و شنید شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں