حماس کا غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز سے اتفاق کا اعلان مگر اسرائیل نے تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے پیش کردہ ایک مجوزہ فریم ورک پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جو غزہ میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء، امدادی سامان کی فراہمی اور ایک پیشہ افراد پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے غزہ کے انتظامات سنبھالنے جیسی تجاویز پر مشتمل ہے۔

بدھ کے روز جاری بیان میں حماس نے کہا کہ اس معاہدے میں 10 اسرائیلی قیدیوں اور چند لاشوں کی واپسی کے بدلے میں ایک متفقہ تعداد میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جس کی ضمانت ثالث قوتیں دے رہی ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ اب وہ اس فریم ورک پر اسرائیل کے حتمی جواب کی منتظر ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے حماس کی جانب سے منظور شدہ اس تجویز کو رد کر دیا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت نے اس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاھو نے دوحہ میں جاری مذاکرات سے اپنا وفد واپس بلا لیا تھا اور جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کو معطل کر دیا تھا، حالانکہ ہزاروں اسرائیلی شہریوں، بالخصوص غزہ میں قیدی بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے فورم کی جانب سے ان پر شدید دباؤ تھا۔

یاد رہے کہ حماس کے ایک ذریعے نے 26 مئی کو بتایا تھا کہ تحریک نے ویٹکوف کی ایک تجویز کو تسلیم کیا ہے، جس کے تحت 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 60 سے 70 دن کی جنگ بندی کی بات کی گئی تھی، ساتھ ہی امریکا کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کی ضمانتیں بھی شامل تھیں۔

تاہم ایک اسرائیلی اہلکار نے ایسی کسی منظوری سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ تل ابیب نے 10 قیدیوں کے بدلے ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ادھر ویٹکوف نے بھی اس تجویز پر حماس کی منظوری کی تردید کی، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد کوئی نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاھو کے بہ قول اس وقت بھی تقریباً 20 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں زندہ ہیں، جبکہ 28 کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں