غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ناقابلِ قبول: اٹلی کا اعلان
غزہ میں محصور آبادی کو درپیش شدید مشکلات اور زندگی کے ناقابلِ برداشت حالات کے تناظر میں، اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تایانی نے اسرائیل سے اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا "نہ تو ماضی میں قابلِ قبول تھا اور نہ ہی آئندہ ہو گا"۔
اطالوی پارلیمنٹ سے بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل کا ردعمل ایسے طریقوں پر مشتمل ہے جو اٹلی کے نزدیک ناقابلِ قبول ہیں"۔
المناک اور ناقابلِ برداشت
انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ "بمباری کو فوری طور پر روکنا چاہیے اور انسانی امداد کی فراہمی جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے، ساتھ ہی بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام دوبارہ یقینی بنایا جائے"۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت کا حماس کی جانب سےکی جانے والی کارروائی کے جواب میں دیا گیا ردعمل، اگرچہ قانونی جواز رکھتا ہے، مگر اس کا انداز اور طریقہ کار بین الاقوامی ضوابط کے اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے، جو انسانی زندگیوں اور بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
اٹلی کی جانب سے یہ انتباہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے امدادی سامان کی تقسیم کے عمل میں شدید رکاوٹیں پیش آئی ہیں۔ گزشتہ روز امدادی کارروائیوں کے دوران ہونے والے انتشار کو اقوام متحدہ نے انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا تھا۔
اسی دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے گزشتہ ہفتے دوحہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکراتی وفد کو واپس بلا لیا اور متعلقہ بات چیت کو معطل کر دیا، جبکہ اس اقدام پر ہزاروں اسرائیلی شہریوں بشمول غزہ میں قیدیوں کے اہل خانہ کے فورم کی جانب سے شدید تحفظات اور تنقید کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ حماس نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ تحریک نے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوو کی پیش کردہ ایک تجویز پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں 60 سے 70 دن کی مدت کے لیے جنگ بندی کا منصوبہ شامل تھا، جس کے بدلے میں 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی بات کی گئی تھی، اور ساتھ ہی امریکی ضمانتیں دی گئی تھیں کہ مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کا مکمل طور پر غزہ کی پٹی سے انخلا بھی زیرِ غور لایا جائے گا۔
تاہم، ایک اسرائیلی اہلکار نے اس تجویز کی منظوری سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب نے صرف 10 قیدیوں کی رہائی کے بدلے عارضی جنگ بندی کی منظوری دی ہے۔
اسی طرح، سٹیو وٹکوف نے بھی حماس کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کی تردید کی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی اس معاملے پر کوئی نتیجہ نکالا جائے گا۔
-
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت، بچوں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک
ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 54 ہزار کے قریب
مشرق وسطی -
امریکی حمایت یافتہ غزہ امدادی ماڈل 'وسائل کا ضیاع، مظالم سے توجہ ہٹا' رہا ہے: سربراہ انروا
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا کے سربراہ نے بدھ کو غزہ ...
مشرق وسطی -
پوپ لیو کی غزہ میں جنگ بندی کی اپیل، بچوں کی ہلاکتوں پر اظہارِ افسوس
والدین کی آہ و زاری آسمان تک پہنچ رہی ہے: پوپ
مشرق وسطی