سعودی عرب : جدہ کو الخمرہ سے ملانے کے لیے لوجسٹک راہ داری کا نیا منصوبہ

راہ داری 17 کلو میٹر طویل ہو گی ... منصوبے کی مجموعی لاگت 68.9 کروڑ ریال ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں نقل وحمل اور لوجسٹک خدمات کے وزیر ، چیئرمین جنرل پورٹ اتھارٹی صالح الجاسر نے آج بدھ کے روز ایک منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبہ جدہ کی اسلامی بندرگاہ کو جدہ ضلع کے جنوب میں الخمرہ کے لوجسٹک زون سے ملانے کی راہ داری پر مشتمل ہے۔ یہ اقدام "وژن 2030" کے تحت سعودی عرب میں لوجسٹک خدمات کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

العربیہ بزنس کے نمائندے سلطان السلمی نے بتایا ہے کہ یہ منصوبہ سعودی لوجسٹک شعبے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے، جس سے یومیہ 8 ہزار سے زائد ٹرک فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ یہ جدہ کی بندرگاہ سے براہِ راست منسلک ہوگا، جو مملکت کی سب سے بڑی سمندری بندرگاہ ہے۔ یہاں سے سعودی عرب کی تقریباً 75 فی صد درآمدات و برآمدات گزرتی ہیں۔

سلطان السلمی کے مطابق، وزیر صالح الجاسر نے العربیہ بزنس کو بتایا کہ 17 کلومیٹر طویل اس منصوبے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس راہ داری میں دونوں سمتوں میں دو دو ٹریک شامل ہوں گے، اور اس پر 12 سے زائد معلق پُل بھی بنائے جائیں گے۔ اس منصوبے پر 68.9 کروڑ ریال کی لاگت آئے گی اور اسے 2028 کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ راہ داری جدہ شہر، خاص طور پر جنوبی علاقے میں ٹرکوں کی آمدورفت کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی بندرگاہ کی عملیاتی استعداد میں 10 فی صد سے زائد کا اضافہ کرے گی۔ یہ پیش رفت بندرگاہ کی مجموعی کارکردگی اور لوجسٹک صلاحیت کو بہتر بنائے گی۔

سلطان السلمی نے یہ بھی بتایا کہ الخمرہ میں واقع لوجسٹک زون، جس کا کل رقبہ تقریباً 1 کروڑ مربع میٹر ہے، اس کے پہلے مرحلے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ اس میں 30 لاکھ مربع میٹر سے زیادہ کا رقبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ توسیع کا عمل جاری ہے تاکہ یہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سب سے بڑے لوجسٹک مراکز میں سے ایک بن سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب، خاص طور پر اس کی بندرگاہوں، کو براعظم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک عالمی لوجسٹک مرکز بنانے کے ہدف سے ہم آہنگ ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ بحیرہ احمر سے دنیا کی 13 فی صد سے زائد تجارتی نقل و حرکت ہوتی ہے۔

السلمی کے مطابق یہ تازہ اقدامات قومی سطح کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد نقل و حمل کے انفرا اسٹرکچر کو وسعت دینا، اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو لوجسٹک شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے، تاکہ سعودی عرب کو عالمی تجارتی لین دین اور لوجسٹک خدمات کا ایک مضبوط مرکز بنایا جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں