امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کی طرف سے اپنے پڑوسی عرب ملک شام پر کی جانے والی بمباری کو اپنے لیے تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس بارے میں فریقین سے فون پر بات کر کے صورت حال کو سمجھا ہے۔ ان کا یہ رد عمل بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ نے اپنے پڑوسی عرب اور لمبی خانہ جنگی سے پہلے ہی تباہ حال ملک شام پر اسرائیل کے ان جارحانہ حملوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے اور نہ ہی اسے خبردار کرتے ہوئے اس بمباری سے روکنے کی بات کی ہے۔
البتہ امریکہ کے وزیر خارجہ نے یہ کہا ہے کہ ' ہم اس ایشو پر بات کر رہے ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا میں نے ذرا پہلے ہی اس سلسلے میں متعلقہ فریقین کے فون لیے ہیں۔ '
انہوں نے اپنی تشویش کا مکرر ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ انہیں اس سلسلے میں پیش رفت کے بارے میں آج مزید ' اپ ڈیٹ ' بھی مل جائیں گے۔
انہوں نے توقع ظاہر کہ شام کی فوج اور دروز قبیلے کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی جلد رک جائے گی جو دونوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔
بدھ کے روز سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوا ہے کہ سینیئر امریکی حکام کے بقول صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل سے دوبارہ کہا ہے کہ وہ شام پر بمباری روکے اور شامی حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔