لبنان کے جنبلاط کا السویدا کی دروز برادری سے شام کی ریاست میں ضم ہونے کا مطالبہ
اس مسئلے کا ریاست کی چھتری تلے صرف سیاسی حل ہو سکتا ہے
لبنان کے دروز لیڈر نے منگل کے روز شام کے السویدا کے اقلیتی دروز باشندوں سے خود کو ریاست میں ضم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا یہ مطالبہ مسلسل تیسرے دن کی مہلک جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔
ولید جنبلاط نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "السویدا میں دروز کو خود کو ریاست میں ضم کر لینا چاہیے اور الگ تھلگ ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔"
اگرچہ جنبلاط لبنان کے طاقتور ترین دروز سیاست دان ہیں لیکن وہ اکثر ہمسایہ ملک شام میں اقلیتی دروز کے درمیان نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملوں نے منگل کو مسلسل دوسرے دن شامی حکومتی افواج کو نشانہ بنایا جو دروز کی حفاظت کا دعویٰ کرتی ہیں۔
جنبلاط نے اس بات سے خبردار کیا کہ اسرائیل انتشار کے بیج بونے کے لیے صورتِ حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "السویدا کے دروز رہائشیوں کے بین الاقوامی تحفظ کی درخواست کا مطلب ہے کہ تمام پتے اسرائیلیوں کے ہاتھ میں ہوں۔"
جہاں تک ایک حل کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی چھتری تلے صرف سیاسی حل ہو سکتا ہے۔ جنبلاط نے السویدا کے دروز باشندوں کے قبضے میں موجود بھاری ہتھیاروں کے بارے میں کہا، "دمشق کے ساتھ ایک منصوبہ بنا کر السویدا میں ہتھیاروں کے مسئلے سے نمٹا جائے۔"
دوسری جانب شام کے دروز روحانی پیشوا شیخ حکمت الہجری نے سویدا میں شامی حکومتی افواج کی موجودگی کا خیرمقدم کرنے کے سابقہ تبصروں سے دستربردار ہو گئے۔ انہوں نے کہا، دروز کو "مکمل تباہی کی جنگ" کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جنبلاط نے الہجری کے تبصروں کو "افسوسناک" قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور مزید کہا: "السویدا شام کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے۔"