غزہ کے مناظر۔ 23 جولائی 2025 [اے ایف پی]

حماس غزہ معاہدے کی تجویز پر آمادہ، اب فیصلہ اسرائیل کے ہاتھ میں ہے: العربیہ ذرائع

ثالثوں نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جواب میں "بعض ترامیم" شامل کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی ذرائع نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کی تجویز پر اپنا حتمی جواب دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس نے غزہ معاہدے کی تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے، اور اب فیصلہ اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ حماس کے جواب میں امداد کی تقسیم، فوجی انخلا اور جنگ بندی کی ضمانت سے متعلق کچھ تحفظات شامل ہیں۔

ادھر "العربیہ/الحدث" کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حماس کا جواب ثالثوں کو دے دیا گیا ہے، مگر یہ تا حال اسرائیل تک نہیں پہنچایا گیا۔ ثالثوں نے حماس سے کہا ہے کہ وہ اپنے جواب میں چند ترامیم کریں تاکہ اس کا تاثر مثبت ہو۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس سے قبل عبرانی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے انکشاف کیا تھا کہ قطر اور مصر کے ثالثوں کو، جو غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات میں شامل ہیں، حماس کا جواب موصول ہو چکا ہے، مگر یہ جواب اب تک ان کے لیے اطمینان بخش نہیں ہے۔

ایک با خبر ذریعے کے مطابق ثالثین حماس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جواب میں "بعض بہتریاں" شامل کرے تاکہ مذاکرات جاری رکھے جا سکیں۔ اسی ذریعے نے مزید بتایا کہ بیت المقدس کے حکام نے حماس کے جواب کو مایوس کن قرار دیا ہے، تاہم اگر حماس کی جانب سے معقول بہتری کی گئی، تو مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

معاہدہ آخری مراحل میں داخل

ایک اسرائیلی عہدے دار نے ویب سائٹ "واللا" کو بتایا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ معاہدے پر زیادہ تر اختلافات حل ہو چکے ہیں، اور حماس کا با ضابطہ جواب آج رات یا کل تک متوقع ہے۔

ایک اعلیٰ اسرائیلی اہل کار نے کہا کہ "تل ابیب کو حماس کے جواب کی توقع آج رات یا کل ہے"۔

اخبار "یدیعوت آحرونوت" کے مطابق دوحہ اور قاہرہ میں جاری مذاکرات میں شریک ثالثین کا خیال ہے کہ حماس اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اپنا جواب دے گی۔ البتہ اب بھی ایک بنیادی اختلاف باقی ہے، جو ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق ہے جہاں وہ حالیہ کارروائیوں کے دوران دوبارہ قابض ہو چکی ہے۔

باوجود ان اختلافات کے اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جو ابتدائی مفاہمتیں ہو چکی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اگر دونوں فریق تھوڑی سی لچک دکھائیں تو جلد معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔

تاہم، اب تک حماس کی جانب سے گزشتہ جمعرات کو پیش کی گئی ثالثوں کی تجویز پر کوئی با ضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، حالانکہ اس پر تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

معاہدے کی تفصیلات

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے ذرائع کے حوالے سے غزہ معاہدے کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پا رہا ہے۔
اخبار نے ایک اسرائیلی سیکیورٹی ذریعے اور حماس سے قریبی تعلق رکھنے والے فلسطینی ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ معاہدے کے تحت 10 اسرائیلی یرغمالیوں کو زندہ، جبکہ 18 لاشوں کو منتقل کیا جائے گا، اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

یہ رہائیاں اور لاشوں کی منتقلی پانچ مراحل میں مکمل کی جائیں گی، اور جنگ بندی کی مدت 60 دن ہو گی۔

اسرائیلی ذریعے کے مطابق معاہدے کے تحت حماس کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ کسی بھی رہائی کی تصویری یا عوامی تقاریب نہ کرے، جیسا کہ اس سے قبل ایک جنگ بندی کے دوران کیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں