ثالثی فریق جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز پر حماس کے جواب کے منتظر ہیں: رپورٹ
امریکی ویب سائٹ نے بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ نے اس تجویز پر کوئی واضح جواب نہیں دیا، جبکہ دوحہ میں موجود حماس کے ذمے داران اس کی حمایت کا رجحان رکھتے ہیں
امریکی خبر رساں ویب سائٹ "axios" نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ دوحہ میں موجود ثالثین اب بھی غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین تجویز پر حماس کے جواب کے منتظر ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوحہ میں موجود حماس کے سیاسی رہنما اس تجویز کی حمایت کا رجحان رکھتے ہیں، تاہم حماس کے عسکری ونگ نے اس تجویز پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
اسی دوران اسرائیلی ٹی وی چینل "13" نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے کہا کہ "اسرائیلی رعایتوں کے باوجود حماس جواب دینے میں تاخیر کر رہی ہے"۔ چینل نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ "دوحہ میں مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی وجہ سے اسرائیلی وفد وہیں قیام پذیر رہے گا"، اور یہ بھی کہا گیا کہ "اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوئی تو اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی امور مذاکرات میں شامل ہو جائیں گے"۔
دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل اور حماس کئی مہینوں سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا جائے جو 60 روزہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا راستہ ہموار کرے۔ ان مذاکرات میں قطر، مصر اور امریکہ کے سفارت کار ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی خبریں دی ہیں، تاہم افق پر کسی حقیقی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
اسی تناظر میں، اسرائیلی افواج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ میں جنگ بندی اور حماس کے قبضے میں موجود قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پانے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اتوار کے روز غزہ کے محاذ پر تعینات اسرائیلی افواج کے دورے کے دوران زامیر نے کہا کہ فوجی قیادت تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے ان امکانات کی تفصیلات بیان کیے بغیر کہا "ہم نئے عملیاتی طریقہ کار اختیار کریں گے جن سے ہماری طاقت میں اضافہ، کمزوریوں میں کمی اور زمینی کامیابیوں کو مزید گہرا کیا جا سکے گا"۔
ایال زامیر نے مزید کہا کہ ان مختلف منظرناموں کو سیاسی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ مناسب فیصلہ کر سکے۔