حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس سے قبل سامنے نہیں آئے : لبنانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر جوزف عون نے زور دیا ہے کہ ملک کو "فرقہ وارانہ اور جماعتی تقسیم کی تنگ گلیوں سے نکل کر ایک ہی جماعت یعنی لبنان کی جماعت" بنانا ہو گا۔

پیر کو تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سب کو ایک ہی جھنڈے کے نیچے متحد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فرقوں کا لبنان ریاست نہیں بنا سکتا، بلکہ ریاست ہی وہ قوت ہے جو تمام فرقوں کی حفاظت کرتی ہے اور وطن کو سنبھالتی ہے۔" صدر نے حکومت کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وزارتی کونسل ایک ایسا فورم ہے جہاں آراء کا تبادلہ اور بحث کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں، اور حالیہ عرصے میں ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئے۔

دوسری جانب حزب اللہ اور امل تحریک نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی کال دی ہے، جس کے تحت حزب اللہ کے ہتھیار صرف ریاست کے اختیار میں لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ دونوں جماعتوں نے اپنے بیان میں مزاحمت کے ہتھیار کو "مقدس" قرار دیتے ہوئے اسے وطن کے دفاع کا ذریعہ بتایا اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی دباؤ کو مسترد کریں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اللہ نے با ضابطہ طور پر عوامی احتجاج کی اپیل کی ہے۔ اس سے قبل اس کے حامی موٹرسائیکل ریلیوں کے ذریعے بیروت کی سڑکوں پر فیصلے کے خلاف مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنانی حکومت نے اگست کے آغاز میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہو گا۔ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ماہِ اگست کے اختتام تک اس مقصد کے لیے منصوبہ تیار کرے، جب کہ ہتھیاروں کی مکمل طور پر حوالگی کی مہلت رواں سال (2025) کے آخر تک مقرر کی گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں