اسرائیل کی جانب سے جنوبی سرحد پر بفر زون بنانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی: لبنانی صدر

لبنان اقوام متحدہ کی فورس کے قیام میں توسیع کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے کے بارے میں بیروت کو کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان امریکی ایلچی ٹامس برّاک اور سابق ایلچی مورگن اورتاگوس کے ذریعے اسرائیلی ردعمل کا منتظر ہے، جو تجاویز پر مشتمل ایک تحریری دستاویز لے کر آئیں گے۔

صدر عون نے امریکی کانگریس کے رکن ڈیرن لحود سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس "یونیفیل" کی موجودگی میں توسیع ناگزیر ہے تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد ہوسکے۔ اس قرارداد میں اسرائیل کے زیر قبضہ لبنانی اراضی سے انخلا، قیدیوں کی رہائی اور لبنانی فوج کی بین الاقوامی سرحد تک تعیناتی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اقوام متحدہ کی فورس کے قیام کو وقت سے پہلے ختم کرنے کے بجائے اس کی موجودگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔

چند روز قبل صدر عون نے یونیفیل کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل دیوداتو ابگنارا سے ملاقات میں بھی یہی مؤقف دہرایا اور کہا تھا کہ لبنانی فوج، یونفیل اور جنوبی قصبوں کے عوام کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانس نے یونیفیل کے مشن میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد پیش کی ہے تاکہ رفتہ رفتہ اس کی واپسی کا عمل شروع کیا جا سکے۔

تاہم اسرائیل اور امریکہ اس فورس کی مدت میں توسیع کے مخالف ہیں۔ یونیفیل 1978 ءسے لبنان کے جنوبی علاقے میں تعینات ہے اور اس کی موجودگی کی مدت 31 اگست کو ختم ہورہی ہے۔

ادھر حکومت لبنان نے اس ماہ کے آغاز میں فیصلہ کیا تھا کہ حزب اللہ کا اسلحہ ضبط کر کے ہتھیار صرف ریاست کے پاس رہیں گے۔ یہ نکتہ بھی قرارداد 1701 کا حصہ ہے جو 2006ء کی جنگ کے بعد منظور کی گئی تھی۔ قرارداد میں حزب اللہ کے دستوں کو دریائے لیطانی کے جنوب سے ہٹانے اور اس علاقے کو غیر مسلح رکھنے کی شق بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں