ایک اسرائیلی ٹینک شام اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان جنگ بندی لائن پر باڑ کے ساتھ کھڑا ہے - رائٹرز

شام اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے بات چیت مگر گولان کا مستقبل غیر واضح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دمشق کی جانب سے اعلان کے بعد کہ وہ امریکہ کی وساطت سے اسرائیل کے ساتھ جنوبی علاقے پر سکیورٹی مفاہمت کے لیے کام کر رہی ہے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ شام اسرائیلی فریق کے ساتھ مذاکرات تیز کر رہا ہے تاکہ ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچ سکے جس سے وہ حالیہ عرصے میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والی زمین واپس لینا چاہتا ہے۔

تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی جامع امن معاہدے کے درجے کا نہیں ہوگا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

رائیٹرز سے گفتگو کرنے والے چار ذرائع جن میں شامی فوجی اور سیاسی حکام، انٹیلی جنس ذرائع اور ایک اسرائیلی عہدیدار شامل ہیں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت ہو، تاکہ نیویارک میں دنیا کے رہنما اس پیشرفت کو دیکھ سکیں۔

شامی تجویز: اسرائیلی انخلا اور 1974 کی پوزیشن پر واپسی

ذرائع نے بتایا کہ دمشق کی تجویز میں اسرائیلی فوج کے ان علاقوں سے انخلا کی بات شامل ہے جو اس نے حالیہ مہینوں میں قبضے میں لیے ہیں، ساتھ ہی 1974 ءکے جنگ بندی معاہدے کے تحت بنائی گئی غیر فوجی بفر زون کی بحالی اور اسرائیلی فضائی حملوں و زمینی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

جنوبی شام میں قنیطرہ کے مضافات میں ایک اسرائیلی ٹینک (فائل فوٹو - اے ایف پی)

گولان پر کوئی بات نہیں

ذرائع کے مطابق بات چیت میں گولان کی حیثیت شامل نہیں جو اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ ایک شامی ذریعے کے مطابق "یہ مسئلہ مستقبل پر چھوڑا جائے گا"۔ یاد رہے اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ "دمشق کے ساتھ کسی بھی تعلق کی قیمت گولان پر اسرائیل کے قبضے کو برقرار رکھنا ہوگی"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسرائیل کا رویہ اور امریکی دباؤ

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل مذاکرات میں اپنی حالیہ کامیابیوں سے دستبردار ہونے پر ہچکچا رہا ہے۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے کہاکہ "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں بڑی سفارتی کامیابی کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، مگر اسرائیل زیادہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں"۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ واشنگٹن "ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو شام، اسرائیل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام لا سکے۔"

طویل کشیدگی کی تاریخ

یاد رہے شام اور اسرائیل 1948ء میں اسرائیل کے قیام سے ہی جنگ کی حالت میں ہیں، اگرچہ وقفے وقفے سے حالات پرسکون بھی رہے۔

اسرائیل نے گزشتہ برس 8 دسمبر کے بعد سے کئی ماہ تک غیر فوجی علاقے میں توسیع کرتے ہوئے 1974 ءکے جنگ بندی معاہدے کو توڑ دیا۔ اس عرصے میں شامی حکومت کو گرانے والی اپوزیشن کی پیشقدمی کے بعد اسرائیلی افواج دمشق سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئیں اور شامی فوجی اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں