غزہ میں اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 5 افراد سمیت 23 جان بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے لیے فلسطینی خواتین نے سوگ منایا اور اسرائیلی ریاست پر سخت غصہ کا اظہار کیا۔ ان خواتین نے حماس کے خلاف بھی غصے کا اظہار کیا۔

غزہ شہر کے الشطی پناہ گزین کیمپ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسرائیلی ریاست کی طرف سے بمباری کی گئی۔ جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

خاندان میں واحد بچنے والی خاتون کا نام ام خلیل بتایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا جو کچھ ہو رہا ہے وہ فلسطینیوں کا قتل عام ہے۔ جس کی بین الاقوامی سطح پر بھی مذمت کی جا رہی ہے۔ 'اے ایف پی' کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاتون نے سیاہ رنگ کا عبایا پہن رکھا ہے اور وہ غم سے نڈھال ہو کر چیخ رہی ہے۔

اس نے اپنی گود میں اپنے چھوٹے بچے کی لاش اٹھا رکھی تھی اور اسے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔

ان کا نام سلوی صبحی بکر بتایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح و شام ہونے والی اس بمابری سے نہ سو سکتے ہیں، نہ چل پھر سکتے ہیں۔ رات کے وقت ایسی ہی بمباری میں ہمارے بچے نشانہ بنا گئے ہیں۔ جب ہمارے اوپر اسرائیلی فوج نے میزائل فائر کیے۔

مجموعی طور پر بکر خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ میں پوچھتی ہوں دنیا ہم سے کیا چاہتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہم سے کیا چاہتا ہے اور حماس ہم سے کیا چاہتی ہے۔

اس خاندان کے افراد خانہ کی لاشیں سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی تھیں۔ بعض پر خون کے نشان تھے جب انہیں تدفین کے لیے لے جایا گیا۔

خاندان کا سربراہ بکر دو سال پہلے لاپتہ ہو گیا تھا اور اب اس کا خاندان جگہ جگہ دربدر پھر رہا تھا لیکن خاندان بھی زیادہ عرصہ محفوط نہ رہ سکا۔

خاندان کی خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ ہم وہاں چلے جائیں۔ پھر وہ یہاں بھی ہمارے پیچھے آگئے۔ ہم کہاں سے بار بار نقل مکانی کرنے کے لیے ٹرکوں کو پیسے دیں۔ لوگ گلیوں میں پڑے ہیں۔ ہر طرف بکھرے ہوئے۔ ہم کہاں جائیں۔ ہمیں اس صورتحال کا کوئی حل چاہیے۔

پچھلے ماہ کے اواخر سے جب سے اسرائیلی ریاست کی فوج نے غزہ شہر پر بمباری کی نئی یلغار کی ہے اور بعدازاں شہر میں زمینی حملے کو شدید تر کر دیا ہے۔ اس کی طرف سے بار ہا غزہ کے بے گھر ہوچکے شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ کر جنوب کی طرف چلے جائیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اب تک 7 لاکھ فلسطینی غزہ شہر چھوڑ کر جنوب کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ شہر کے ساتھ ہی غزہ کے دوسرے علاقوں میں بھی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ جلد سے جلد اپنا کام ختم کرنے کے لیے بمباری و حملے تیز کیے ہوئے ہے۔

ہفتہ کے روز غزہ کے شہری دفاع کے شعبے نے رپورٹ کیا ہے کہ مزید 23 فلسطینیوں وک قتل کر دیا گیا ہے۔

ان واقعات اور ہلاکتوں کو کور کرنے کے لیے میڈیا کو اجازت نہیں ہے کہ وہ ان علاقوں میں جا سکے۔

اس لیے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ہر جگہ پہنچ کر مکمل آزادی کے ساتھ چیزوں کو رپورٹ کر سکے یا ان معلومات کو کسی دوسری جگہ سے چیک کر سکے۔

'اے ایف پی' کی ایک ویڈیو میں ایک ہسپتال میں بھی کئی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ ان کے پاس ایک خاتون رو رہی کے جبکہ مرد قریب ہی کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں۔ کنکریٹ کے بنے ہوئے بلاکس موجود ہیں۔ مختلف افراد کی ٹولیاں بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو اٹھا رہی ہیں۔

نیتن یاہو نے جمعہ کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہماری مذمت کی بجائے ہمیں اپنا کام مکمل کرنے دیا جائے۔

یاد رہے اب تک 65926 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 168000 کے قریب زخمی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں