غزہ : اسرائیلی بمباریوں سے جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 66000 سے زائد ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریباً دو سال سے غزہ میں جاری اسرائیل کی اب تک کی طویل ترین اور بدترین جنگ کے دوران فلسطینیوں کی 66000 کی تعداد میں ہلاکتیں ہوگئی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

تازہ اعداد و شمار اتوار کے روز حماس کی حکومت کے زیر اہتمام کام کرنے والی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں۔

ان جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک صرف غزہ میں 66005 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان میں بھوک اور قحط سے مرنے والے بھی سینکڑوں کی تعداد میں شامل ہیں۔

اعداد و شمار میں اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 168162 بتائی گئی ہے۔

پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کیے گئے اسرائیلی فوجی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 79 فلسطینیوں کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے ہسپتالوں میں لائی گئی۔

نیتن یاہو جو ان دنوں امریکہ میں ہیں اور کل پیر کے روز صدر ٹرمپ سے غزہ کے بارے میں اپنے جنگی عزائم اور تباہی کے منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ اسرائیلی فوج نے ان کی امریکہ میں موجودگی کے دوران اپنی کارروائیوں کو مزید تیز تر کر دیا ہے۔

پچھلے ماہ سے بطور خاص اسرائیلی فوج کے حملوں کا ہدف فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے ساتھ ساتھ ان کا غزہ شہر سے انخلاء بھی ہے۔ تاکہ وہ غزہ سے جبری انخلاء کے اسرائیلی منصوبے کے مطابق غزہ شہر سے نکل جائیں اور ان کی واپسی کا طویل عرصے تک امکان واپس نہ رہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی ریاست اپنی اس جنگی مہم کا غزہ سے متعلق اپنے منصوبوں کے مکمل ہونے تک بار بار اعادہ کرتی رہتی ہے۔ جبکہ امریکہ نے بھی پچھلے ہی دنوں سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو مسلسل چھٹی مرتبہ ویٹو کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں