جرمن دارالحکومت میں ہزاروں مظاہرین نے ہفتے کے روز مارچ کیا اور اسرائیل سے غزہ میں فوجی مہم روک دینے کا مطالبہ کیا۔
برلن کے ٹاؤن ہال سے مارچ کرتے ہوئے ایک جمِ غفیر نے فلسطینی پرچم اور بینرز لہرائے جن پر "آزاد فلسطین" اور "خوراک اور پانی انسانی حقوق ہیں" کے نعرے لکھے تھے۔
"غزہ کے لیے ایک ساتھ" کے عنوان سے مظاہرے میں شریک Dustin Hirschfeld نے اے ایف پی کو بتایا، "آج ہم یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسیوں اور اس نسل کشی کے خلاف لوگوں کی اکثریت سڑکوں پر نظر آ رہی ہے اور یہ عمل کر سکتی ہے۔"
مظاہرین نے اپنا مارچ برلن کی وکٹری کالم یادگار پر ختم کیا جو ریپرز اور ہپ ہاپ فنکاروں کی ریلی اور کنسرٹ کا مقام ہے۔
پولیس کے اندازے کے مطابق تقریباً 60,000 لوگوں نے مارچ اور ریلی دونوں میں حصہ لیا جس کا اہتمام Die Linke سیاسی پارٹی اور سول سوسائٹی گروپس نے کیا تھا۔ منتظمین نے یہ تعداد تقریباً 100,000 بتائی ہے۔
مظاہروں کی نگرانی کے لیے تقریباً 1800 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر دباؤ
ڈائی لنکے پارٹی نے جرمن حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں خراب ہوتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر بہت حد تک خاموش ہے۔
جیسا کہ پارٹی نے لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا تو اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو "بالآخر کارروائی کرنا اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ راستہ بدلنے پر مجبور ہو جائے۔"
اطلاعات کے مطابق مظاہرہ پرامن رہا۔
اس بڑے مظاہرے سے جرمنی میں بڑھتا ہوا غصہ اور بدلتا ہوا عوامی موڈ نمایاں ہوتا ہے۔
اسرائیل کو تاریخی طور پر جرمنی میں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل رہی ہے اور ہولوکاسٹ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے برلن اس کا ایک قریبی ترین اتحادی ہے۔
لیکن جیسے جیسے اسرائیلی کی فوجی مہم میں شدت آئی ہے تو بین الاقوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
برلن کی تنقید میں اضافہ ہوا اور چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت نے اگست میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ مرز کے اقدامات کافی نہیں تھے۔
جرمنی نے اب تک اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کیا اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے کئی مغربی اتحادیوں کے برعکس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی مظالم میں غزہ میں اب تک 65,926 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
-
غزہ کے حوالے سے ثالثوں کی جانب سے کوئی نئی تجاویز موصول نہیں ہوئیں : حماس کی تصدیق
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والی کسی بھی تجویز کا مثبت اور ...
بين الاقوامى -
غزہ،اسرائیلی ٹینکوں کی بڑی پیش قدمی،امدادی تنظیموں کو زخمیوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا
اسرائیل نے بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بھیجی گئی 73 درخواستوں کو مسترد کر دیا ...
بين الاقوامى -
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل اسرائیلیوں کا غزہ معاہدے کے لیے احتجاج
دونوں کی پیر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات طے شدہ ہے
مشرق وسطی