ہمارے پاس اتنی امداد موجود ہے جو پورے غزہ کے لیے 3 ماہ تک کافی ہوگی : انروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ پھیلنے والی خوشی کے مناظر کے دوران اقوامِ متحدہ کی ریلیف و ورکس ایجنسی (انروا) کی جانب سے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم سامنے آیا ہے۔ ایجنسی نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ "بڑی راحت اور اطمینان کا باعث ہے"۔

انروا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اس انسانی بحران کے دوران غزہ کے باشندوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امدادی سامان داخل کرنے کو تیار ہے۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل فلیپ لازارینی نے "ایکس" پر لکھا کہ "انروا کے پاس غزہ کے لیے خوراک، دوائیں اور دیگر بنیادی ضروریات کا سامان موجود ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس اتنا ذخیرہ ہے جو اگلے تین ماہ تک تمام آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے لیے کافی ہے"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

گزشتہ روز بدھ کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ سے متعلق پیش کردہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ حکومت کی منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہو گا، جس کا اجلاس آج شام متوقع ہے۔ تاہم، دفتر نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کارروائیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔

غزہ کی پٹی میں جشن منائے جا رہے ہیں، جو گزشتہ دو برس سے خون ریز جنگ اور سخت محاصرے میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے باعث اقوامِ متحدہ کے مطابق بعض علاقوں میں قحط تک کی نوبت آ گئی تھی۔

غزہ کی پٹی کے بیشتر علاقے خصوصاً شمالی حصے، تباہی کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں جہاں عمارتیں اور سڑکیں مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔

یاد رہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ آئندہ پیر سے شروع ہو گا اور اسی کے ساتھ اسرائیلی فوج بھی غزہ کے بعض حصوں سے انخلا شروع کرے گی۔ یہ امور گزشتہ دنوں مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی بالواسطہ بات چیت میں طے پائے۔

اسی طرح، منصوبے کے پہلے مرحلے میں یہ بھی طے ہوا کہ غذائی اور طبی امداد روزانہ 400 ٹرکوں کے ذریعے غزہ میں داخل کی جائے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں