اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعرات کے روز جنگ بندی معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد جرمنی نے کہا ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق منصوبے کے لیے کئی اہم اقدامات ضروری ہیں۔
امن فوج اور قانونی فریم ورک کی ضرورت
جرمن وزیرِ خارجہ یوہان فاڈیوول نے کہا کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی ایک مضبوط قانونی فریم ورک کی تشکیل اور یہ یقینی بنانا کہ حماس مستقبل میں خطرہ نہ بنے، یہ تمام امور ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نکات آئندہ پیرس میں ہونے والی بین الاقوامی شراکت داروں کی ملاقات میں زیرِ بحث آئیں گے۔
انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں کہا کہ "انسانی اور طبی امداد کو فوری طور پر غزہ پہنچنا چاہیے، کیونکہ لوگ بحالی اور تعمیرِ نو کی نئی امید کے منتظر ہیں"۔
پیرس میں عرب و یورپی وزرائے خارجہ کا اجلاس
پیرس کی میزبانی میں آج ایک اہم عرب اور یورپی وزارتی اجلاس ہو رہا ہے، جس کا مقصد غزہ سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد میں تعاون فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ایک سفارتی ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ اجلاس کا ہدف امن فوج کی تعیناتی اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں مدد کے اگلے مرحلے پر غور کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق غزہ منصوبے کی کئی شقیں دو ریاستی حل، سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ اقدام اور اعلانِ نیویارک کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
عالمی سطح پر خیر مقدمی ردِعمل
غزہ معاہدے پر عالمی برادری کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا کہ فرانس دو ریاستی حل اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج سہ پہر پیرس میں بین الاقوامی شراکت داروں سے مزید مشاورت کریں گے۔
یورپی یونین نے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کو ’’سفارتی کامیابی‘‘ قرار دیا۔ یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے ’ایکس ‘پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’غزہ میں امن کے عمل کے پہلے مرحلے پر اتفاق ایک بڑی پیش رفت ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یورپی یونین اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا‘‘۔
برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے زور دیا کہ ’’اس معاہدے کو مکمل طور پر اور بغیر کسی تاخیر کے نافذ کیا جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی غزہ کے لیے تمام امدادی پابندیاں فوری طور پر ختم ہونی چاہییں۔
عالمی رہنماؤں کا مشترکہ مؤقف
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور اسپین نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انٹنی البانیز نے کہا کہ ’’غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ یہ امر یقینی بنایا جانا چاہیے کہ حماس آئندہ حکومت میں کوئی کردار ادا نہ کرے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ کی بحالی کا سفر طویل ہے، جس کے لیے پائیدار امن اور فلسطینی ریاست کی تعمیر ناگزیر ہے‘‘۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ اٹلی غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے پر مکمل طور پر عمل کریں۔
اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پیر سے شروع ہوگی:ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا عمل پیر سے شروع ہو گا۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’’ایک عظیم کامیابی‘‘ قرار دیا۔
ابھی بھی تقریباً 45 اسرائیلی شہری غزہ کے تباہ حال علاقے میں قید ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے جنگ سے پہلے ہی سینکڑوں فلسطینیوں کو اپنی جیلوں میں قید کر رکھا تھا۔
-
قیدیوں کی رہائی کے بعد حماس کا خاتمہ ضروری ہے:اسرائیلی وزیر کا دھمکی آمیز بیان
غزہ میں جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے پر بین الاقوامی اور عرب دنیا کی جانب سے خیر مقدم ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے غزہ میں حملے روک دیے، حماس کا کل بڑے شہروں سے انخلا کا مطالبہ
غزہ میں جشن، جنگ بندی منظوری کے بعد ہی نافذ ہوگی: اسرائیلی حکومت
بين الاقوامى -
اسرائیل خطے میں امن اور تعلقات کے دائرے کو وسعت دینا چاہتا ہے: گدعون ساعر
ڈونلڈ ٹرمپ ایک عظیم رہ نما ہیں اور اسرائیلی قوم ان کی احسان مند ہے:اسرائیلی وزیر ...
مشرق وسطی