غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں نکالنے کا عمل (فائل فوٹو - روئٹرز)

حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں نکالنے کے دوران اپنے فریب کی وجہ بیان کر دی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے یہ بات تسلیم کر لینے کے بعد کہ اس نے غزہ میں ایک اسرائیلی یرغمالی کی باقیات نکالنے کے دوران دھوکہ دہی کے طریقے استعمال کیے ... تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے اس کی وجہ واضح کی ہے۔

قاسم نے آج جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ "اس معاملے پر تنظیم کا موقف بالکل واضح ہے، خاص طور پر اُن گمراہ کن اور من گھڑت مہموں کے حوالے سے جو قابض حکام نے اُن فلسطینی قیدیوں کی لاشیں نکالنے کے دوران چلائیں جو غزہ کی پٹی میں دفن تھے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کو "کام کے دوران متعدد علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اسے اپنی کارروائیوں کو چھپانے اور خفیہ رکھنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کرنا پڑا جو بعد میں سامنے آیا"۔

قاسم نے مزید کہا کہ "سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک خفیہ جنگ جاری ہے۔"

انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیل نے "دو برسوں تک قیدیوں کے مقامات کا سراغ لگانے کی کوشش کی، لیکن مسلسل کھوج اور تلاش کے باوجود اسے کوئی کامیابی نہیں ملی"۔

قاسم نے زور دیا کہ "حماس اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کرتی ہے، برخلاف اس کے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی لاشوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتا ہے، جہاں اس نے تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب القسام بریگیڈز نے بدھ کے روز تسلیم کیا کہ اس نے "دھوکہ دہی کے طریقے" استعمال کیے تاکہ اُن مقامات کو محفوظ رکھا جا سکے جہاں سے اسرائیلی قیدیوں کی باقیات نکالی جا رہی تھیں۔ یہ بات فرانس پریس ایجنسی نے بتائی۔
القسام بریگیڈز نے مزید وضاحت کی کہ اسرائیلی فوج نے جو وڈیو جاری کی تھی جس میں ایک لاش نکالنے کا عمل دکھایا گیا تھا، دراصل وہ "ایک گمراہ کن کارروائی تھی تاکہ دشمن کو حقیقی معلومات سے محروم رکھا جا سکے"۔

حماس نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے ڈرون طیاروں کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں نکالنے کے عمل کی نگرانی کی اور ان مقامات کو اپنے "اہداف کی فہرست" میں شامل کر لیا، جس کے بعد غزہ پر بم باری کی نئی لہروں کے دوران اُن جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے حماس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے غزہ میں یرغمالی کی باقیات تلاش کرنے کی کارروائی کے دوران گمراہ کن حربے استعمال کیے۔

یہ شخص اُن 28 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک تھا جن کی لاشیں جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کے حوالے کی جانی تھیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس کے پاس ایسے وڈیو شواہد موجود ہیں جن میں "حماس کے عناصر ایک عمارت کے اندر سے ایک لاش کی باقیات نکال کر قریب ہی دفن کر رہے ہیں"۔ یہ وڈیو ڈرون سے ریکارڈ کی گئی تھی۔

اب تک حماس 28 میں سے 21 لاشوں کی باقیات واپس کر چکی ہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک 285 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر چکا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں