رفح کی سرنگوں کا بحران حماس کو غیر مسلح کرنے کا ماڈل بن رہا ہے : امریکی عہدے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غزہ کی پٹی میں رفح کے جنوب میں اسرائیلی افواج کی لائنوں کے پیچھے سرنگوں میں پھنسے حماس کے مسلح افراد سے متعلق بحران کو ... اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک ماڈل تیار کیا جائے جو بعد میں نافذ کیا جا سکے۔ اس بات کا انکشاف دو امریکی اہل کاروں نے کیا۔

دونوں افراد نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ خیال اسرائیل کو ایک ایسے ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے جس کی بنیاد پر حماس کو پُر امن طریقے غیر مسلح کیا جا سکے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے بتائی۔

مذکورہ اہل کاروں میں سے ایک نے بتایا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ یہ ایک تجرباتی کیس بنے جسے بعد میں غزہ کے دیگر علاقوں تک وسیع کیا جا سکے، مگر اسرائیلی موقف ہمیشہ کی طرح سخت ہے"۔ تاہم اہل کار نے واضح کیا کہ اس خیال پر مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

دوسرے امریکی اہلکار نے کہا کہ "اسرائیلی جانب کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کوئی ایسی تکنیکی بحرانی صورتحال ... تزویراتی معاملے یعنی غزہ کے معاہدے کو کمزور نہ کرے"۔

ٹرمپ نے حال ہی میں کئی بار اعلان کیا کہ اگر حماس اپنے اسلحے کو نہیں چھوڑے گی تو اسرائیل اسے تباہ کر دے گا، مگر ان کے نمائندے ایسا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں جو جنگ کی طرف واپسی سے روکے۔

اس کی مخالفت میں اسرائیل کو شک ہے کہ آیا حماس سفارت کاری کے ذریعے اپنے ہتھیار چھوڑے گی یا نہیں، اور بہت سے لوگ وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے سخت گیر اتحاد میں یہ سمجھتے ہیں کہ حماس کے ارکان کو معافی دینا نا قابل قبول ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اسرائیلی فورسز اور حماس کے مسلح افراد کے درمیان جو جھڑپیں ہوئیں وہ دس اکتوبر سے نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے لیے خطرہ بنی تھیں، جس کے باعث امریکہ نے اس وقت رفح کی سرنگوں میں پھنسے حماس کے جنگجوؤں کو 24 گھنٹے کی مدت کے لیے "یلو لائن" تک محفوظ گزر کے ذریعے نکلنے کی پیشکش کی تاکہ ایسی جھڑپوں کے دوبارہ واقع ہونے سے بچا جا سکے۔

غزہ کا منظر
غزہ کا منظر

حماس نے ابتدا میں اس پیشکش کو رد کیا، مگر بعد میں دوبارہ دل چسپی دکھائی۔

اس کے باوجود اسرائیلیوں نے اصرار کیا کہ دی گئی مدت ختم ہو چکی ہے، جس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ بالخصوص جب نیتن یاہو کے اتحاد کے اندر بعض سخت گیر وزراء نے حماس کے جنگجوؤں کے لیے "محفوظ راستہ" کھولنے پر سخت تنقید کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں