غزہ معاہدے کے تحت ایک فلسطینی قیدی کی لاش کی حوالگی (فائل فوٹو – فرانس پریس)

حماس کی طرف سے واپس کی گئی لاش اسرائیلی فوجی کی نہیں بلکہ کسی غیر ملکی کی ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک نئے یرغمالی کی لاش غزہ کی پٹی میں ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دی ہے۔ اس کے بعد آج جمعرات کو "العربیہ/الحدث" کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جو لاش گزشتہ روز واپس کی گئی تھی، وہ ایک غیر ملکی کارکن کی ہے۔

نمائندے کے مطابق اسرائیلی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ باقیات کسی اسرائیلی فوجی کی نہیں ہیں، جیسا کہ ابتدا میں گمان کیا جا رہا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کو غزہ کے قریب سے ایک اور یرغمالی کی لاش ملی ہے، جو ریڈ کراس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ دفتر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فرانزک حکام ان باقیات کی شناخت کی تصدیق کریں گے۔
اس سے قبل منگل کو اسرائیلی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اسے ریڈ کراس کے ذریعے ایک اسرائیلی-امریکی فوجی ایتائی حن (Itai Hen) کی لاش موصول ہوئی ہے۔

حماس اس سے پہلے تمام بیس زندہ یرغمالیوں کو رہا کر چکی ہے، بدلے میں اسرائیل نے اپنے ہاں موجود تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا تھا۔

حماس نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ تمام ہلاک شدہ قیدیوں کی لاشوں کے باقیات واپس کرے گی، تاہم اس نے یہ وضاحت کی کہ غزہ میں تباہی کے باعث بہت سی لاشوں کے مقامات کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تاخیر سے کام لے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ لاشیں کہاں ہیں۔

یاد رہے کہ اب تک حماس 28 میں سے 21 لاشوں کی باقیات واپس کر چکی ہے، جب کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے 285 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں