عناصر من حماس في غزة (أرشيفية- فرانس برس)
امریکہ غزہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط کو نظرانداز کر سکتا ہے: اسرائیلی ذرائع
اس اقدام سے حماس اپنے ہتھیاروں کے ساتھ پٹی میں رہے گی اور اس سے اسرائیل ناراض ہو جائے گا
باخبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کو غزہ میں داخل ہو کر اسے غیر مسلح کرنے پر آمادہ بین الاقوامی فورس کی تشکیل میں مشکل کا سامنا ہے۔
سی این این نیٹ ورک کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی زمینی افواج کا تعاون نہیں کریں گے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ امریکہ اب غیر مسلح کرنے کے مرحلے کو نظرانداز کرنے اور براہ راست تعمیر نو کی طرف بڑھنے پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ یہ اقدام اسرائیل کو ناراض کر سکتا ہے کیونکہ اس سے حماس اپنے ہتھیاروں کے ساتھ رہے گی۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کے مسودے پر متوقع ووٹنگ میں چند گھنٹے باقی ہیں۔ یہ قرار داد غزہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے خاص طور پر غزہ کی پٹی میں ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی حمایت میں ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن خبردار کر رہا ہے کہ اس مسودے کو منظور کرنے میں ناکامی سے دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔ اسی دوران تل ابیب کے ساتھ اختلافات جاری ہیں۔
فرانس پریس کے مطابق سلامتی کونسل کے اندر مذاکرات کے تحت کئی بار نظر ثانی شدہ اس مسودے نے اس منصوبے کی حمایت کی جس کی وجہ سے 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ مسودے کے تازہ ترین ورژن میں "بین الاقوامی استحکام فورس" کے قیام کی بھی اجازت دی گئی ہے جو اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی تاکہ سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے میں مدد مل سکے۔
"بین الاقوامی استحکام فورس" غیر رسمی مسلح گروپوں کو مستقل طور پر غیر مسلح کرنے، شہریوں کی حفاظت کرنے اور انسانی ہمدردی کے راستے (کوریڈورز) قائم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس کے علاوہ قرارداد کے مسودے میں "امن کونسل" کے قیام کی بھی اجازت دی گئی ہے جو غزہ کے لیے ایک عبوری گورننگ باڈی ہوگی جس کی سربراہی نظریاتی طور پر ٹرمپ کریں گے اور اس کا مینڈیٹ 2027 کے آخر تک جاری رہے گا۔ سابقہ مسودوں کے برعکس اس قرارداد میں مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیسے ہی فلسطینی اتھارٹی مطلوبہ اصلاحات پر عمل درآمد شروع کر دے گی اور غزہ کی تعمیر نو شروع ہو جائے گی فلسطینیوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور ایک ریاست کے قیام کے لیے ایک قابل اعتماد راستہ اختیار کرنے کے لیے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کے لیے ناموافق شقیں
یاد رہے اسرائیلی سیاسی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ نئے امریکی تجویز میں اسرائیل کے لیے ناموافق شقیں شامل ہیں۔ ان میں فلسطینی ریاست کے راستے کے بارے میں بات کرنا شامل ہے۔ ایک اور ایسی شق اسرائیل کو امن فوج بھیجنے والے ممالک پر اعتراض کرنے کے حق سے محروم کر رہی ہے۔ ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ ہم غزہ سے اس وقت تک دستبردار نہیں ہوں گے جب تک ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ایک بھی بندوق دوبارہ اسرائیل کی طرف نہیں اٹھائی جا سکتی۔