اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو (آرکائیو - روئٹرز)

نیتن یاہو نے با ضابطہ طور پر صدر کو معافی کی درخواست جمع کرا دی

عام طور پر ملزم کے اعتراف کے بغیر صدر کے لیے معافی دینا ممکن نہیں ہوتا، الاّ یہ کہ کوئی غیر معمولی اور ڈرامائی صورتِ حال عدالتی طور پر ثابت ہو جائے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے سامنے با ضابطہ طور پر معافی کی درخواست جمع کروا دی ہے۔

آج اتوار کے روز جاری بیان میں دفتر نے وضاحت کی کہ نیتن یاہو نے ابھی کچھ دیر پہلے یہ درخواست پیش کی، اور اسے قانونی و عدالتی امور کے محکمے کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاہم وزیرِاعظم نے اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ معافی کی درخواست کے لیے سیاسی دلائل پیش کیے، نہ کہ قانونی یہ بات العربیہ/الحدث کے نمائندے نے بتائی۔

واضح رہے کہ عموماً ملزم کے اعتراف کے بغیر صدر کے لیے معافی دینا ممکن نہیں ہوتا، ما سوا یہ کہ کوئی غیر معمولی اور ڈرامائی صورتِ حال عدالتی طور پر ثابت ہو جائے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دو ہفتے پہلے کرائے گئے ایک رائے عامہ کے سروے سے پتا چلا تھا کہ 44 فی صد اسرائیلی عوام نیتن یاہو کو کرپشن کے الزامات سے معافی دینے کے خلاف ہیں، جبکہ 39 فی صد نے اس کی حمایت کی اور 17 فی صد نے واضح جواب نہیں دیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیلی صدر کے دفتر نے انکشاف کیا تھا کہ صدر ہرزوگ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا تھا، جس میں انہوں نے نیتن یاہو کو معافی دینے پر غور کرنے کی ترغیب دی تھی۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو کے خلاف قائم مقدمات "سیاسی نوعیت کی غیر منصفانہ کارروائی" ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تاہم ہرزوگ نے اس وقت مؤدبانہ طور پر یہ کہتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ "جو بھی معافی چاہتا ہے اسے قواعد کے مطابق درخواست دینا ہو گی"۔ یعنی اگر نیتن یاہو واقعی معافی چاہتے ہیں تو وہ با ضابطہ طور پر صدر کو درخواست دیں۔

سال 2019 میں نیتن یاہو کے خلاف تین کرپشن کیسز میں الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں ایک الزام کاروباری شخصیات سے تقریباً 7 لاکھ شیکَل (تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار ڈالر) کے تحائف وصول کرنے سے متعلق ہے۔

اس کے باوجود 2020 میں شروع ہونے والی یہ طویل عدالتی سماعت اب تک کسی فیصلے تک نہیں پہنچی، جو غزہ کی پٹی میں دو برس کی جنگ کے دوران کئی مرتبہ روکنا بھی پڑی۔ نیتن یاہو نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں