گذشتہ دنوں سامنے آنے والے انکشافات میں اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر، وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان اختلافات کی خبریں منظرعام پر آئیں تو اس کشیدگی کی اصل وجوہات پر سوالات بھی اٹھنے لگے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق ان تینوں اعلیٰ حکام کے درمیان معاملہ سات اکتوبر کے واقعات کی ذمہ داروں کے تعین کا نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی جانب سے فوج کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش ہے۔ اس موقف کی بنیاد اسرائیلی ریڈیو کان کی رپورٹ میں ماہرین نے روشنی ڈالی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو اور کاٹز کا حالیہ طرزعمل محض تشویشناک نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ بھی دیتا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کو ایک بہانہ بنا کر زامیر پر وہی دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو سیاسی سطح نے دیگر سکیورٹی حکام کے ساتھ آزمایا تھا ۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیل کی سیاسی اشرافیہ فوج کی اعلیٰ کمان کو اپنے تابع اور فرمان رکھنا چاہتی ہے۔
سابق حکام کے ساتھ بھی کشیدگی
سابق آرمی چیف ہرزی ہلیوی کے ساتھ مکمل تابع داری کی کوشش ناکام رہی جس کے بعد انہوں نے اپنا منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ سابق شاباک سربراہ رونن بار کے معاملے میں نیتن یاھو نے پہلے ہی اس پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور انہیں برطرف کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ طویل کھینچا تانی کے بعد آخرکار وزیراعظم انہیں ہٹانے میں کامیاب ہو گئے۔
اسی طرح قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ زاحی ہنگبی کے ساتھ بھی تنازع سامنے آیا۔ جب انہوں نے متعدد معاملات میں نسبتاً آزادانہ مؤقف اپنایا جن میں اسیران کی رہائی کے مذاکرات سے لے کر قطر پر تنقید تک شامل تھے تو نیتن یاھو کی حمایت کھو بیٹھے اور بالآخر انہیں برطرف کر دیا گیا۔ اب جبکہ برطرفی کو تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے وزیراعظم نے اب تک کوئی مستقل متبادل نامزد نہیں کیا۔ نائب سربراہ گیل رائخ ہی قائم مقام کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ریڈیو ’کان‘ کے مطابق سیاسی قیادت کے ان اقدامات کا مقصد واضح ہے۔ نیتن یاھو اور ان کے قریبی ساتھی اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام سکیورٹی سربراہان ان کے کنٹرول میں رہیں اور چیلنج کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔
زمیر اور کاٹز آمنے سامنے
گذشتہ ہفتے زامیر نے وزیر دفاع کاٹز پر سخت تنقید کی کیونکہ کاٹز نے فوج کی اپنی اندرونی تحقیقاتی رپورٹ کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کی ناکامیوں سے متعلق تھی۔ جنرل زامیر نے انہیں الزام دیا کہ انہوں نے تیس روز کے لیے فوج میں تقرریاں اور ترقیوں کو منجمد کر کے فوجی استعداد کو نقصان پہنچایا۔
چند روز قبل اسرائیلی میڈیا نے یہ خبر بھی نمایاں طور پر شائع کی کہ آرمی چیف نے نو نومبر کو وزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی ایک اہم سکیورٹی میٹنگ میں شرکت نہیں کی جس کا موضوع "خطے میں ترکیہ کے بڑھتے اثرو نفوذ پر غور کرنا تھا۔