سعودی عرب کی ایک سینیئر سفارت کار نے کہا ہے کہ صرف فلسطینی اتھارٹی کو ہی اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسرائیل کی حکومت کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔
سفارت کار نے کہا فلسطینی اتھارٹی تبدیلیوں کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ یہی کوشش اسرائیل کی حکومت کو بھی کرنا ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا اسرائیلی حکام امن کی طرف جانے والے ہر راستے کو خراب کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ میں عہدے دار منال رضوان نے ایک پینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا فلسطینی عوام گزشتہ 30 برس سے اپنے ہاں مسلسل اصلاحاتی عمل کا اہتمام کر رہے ہیں۔
منال رضوان نے کہا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اصلاحاتی منصوبے کا عزم کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے محمود عباس نے ایک مضبوط اصلاحاتی منصوبہ پیش کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہ اصلاحاتی منصوبہ وہ فلسطینیوں کے لیے اچھا خیال کرتے ہیں۔
دوحہ فورم میں پینل ڈسکشن کے دوران منال رضوان نے مزید کہا یقینا سعودی عرب بھی اس سلسلے میں پرعزم ہے اور ہم روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اس کے اصلاحاتی منصوبے میں مدد کر رہے ہیں۔
مگر ہمیں ایک حقیقی اور پائیدار امن تک پہنچنے اور اس تنازعے کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق اسرائیلی حکومت کو بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
سعودی سفارت کار منال رضوان نے کہا ہمیں ایک ایسی اسرائیلی حکومت کا سامنا ہے جو دو ریاستی حل کی مخالفت کرتی ہے۔ ہم ایسی اسرائیلی حکومت کو دیکھتے ہیں جو سرکاری طور پر مسلسل فلسطینیوں کو نشانہ بناتی ہے، جو عربوں کے خلاف ہے، جو مسلمانوں کے خلاف ہے۔
منال رضوان نے مزید کہا ہم نہیں دیکھتے کہ ہمارے ساتھ ایک ایسا پارٹنر ہے جو امن چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ ہمیں یہ بھی نہیں نظر آتا کہ ایسا شراکت دار ہے جو جنگ بندی کو بھی پائیدار دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسرارئیل ہے جسے اپنے ہاں بہت سارا اصلاحاتی عمل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا سعودی عرب کی طویل عرصے سے پوزیشن واضح ہے اور اپنے اس مؤقف کا بار ہا ذکر کر چکا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ نارمل تعلقات ممکن نہیں ہیں۔
منال رضوان نے اس امر کی بھی نشاندہی کی اگر یہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی کہ فلسطینیوں کی سلامتی اور ان کی سیاسی تمناؤں کا احترام نہیں کیا جاتا تو پھر کسی کے لیے بھی کوئی سلامتی نہیں ہے۔ بشمول اسرائیل کے اور پورے خطے کے لیے۔ بلکہ میں کہوں گی کہ پوری دنیا کے پھر کوئی سلامتی نہیں ہے۔
سعودی عرب کی سینیئر سفارتکار نے خبردار کیا کہ غزہ کی جنگ بندی شرائط کو 'ری ڈیفائن' کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب جنگ بندی کی نئی شرائط کے لیے ہم تیار نہیں ہیں الا یہ کہ جن پر ہم پہلے سے اتفاق کر چکے ہیں۔ ہم جنگ بندی کے لیے واپس جانے کو تیار ہیں نہ کسی کو غیر مسلح کرنے کے لیے معنی سمجھنے کو تیار ہیں۔ جو بات طے ہے کہ فلسطینیوں کے زیر قیادت حکومتی عمل آگے بڑھے گا۔