تنازع کے بعد: حزب اللہ کا نام عراق کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا
گذشتہ ہفتے عراق میں وسیع تنازع کے بعد دہشت گرد تنظیموں کی فنڈز کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں لبنانی حزب اللہ اور یمن کے حوثی بھی شامل تھے، عراقی حکام نے اب اس فیصلے میں باقاعدہ ترمیم کا اعلان کیا ہے۔
العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق آج بروز منگل کو بغداد نے باقاعدہ طور پر حزب اللہ اور حوثیوں کے نام دہشت گردوں کے فنڈز منجمد کرنے کی فہرست سے خارج کر دیے ہیں۔
غلطی سے شامل کیا گیا
عراقی حکام نے گذشتہ جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ عراق حزب اللہ اور حوثیوں کے نام دہشت گردوں کے فنڈز منجمد کرنے کی فہرست سے ہٹا دے گا، کیونکہ یہ نام غلطی سے شامل کیے گئے تھے، جس پر ایران نواز گروپوں کی جانب سے ابہام اور تنقید سامنے آئی۔اسی حوالے سے دہشت گردوں کے فنڈز منجمد کرنے کی کمیٹی نے وضاحت کی کہ حزب اللہ اور حوثیوں کے نام غلطی سے شامل ہوئے تھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
کمیٹی نے بتایا کہ دہشت گردوں کے فنڈز کو منجمد کرنے کا فیصلہ نمبر 61 برائے سال 2025 جو عراق کے سرکاری روزنامہ میں شمارہ 4848 میں 17 نومبر کو شائع ہوا، اصل میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ افراد اور تنظیموں کے فنڈز منجمد کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا اور اس میں بعض سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں بھی شامل ہو گئیں جو کسی بھی دہشت گرد سرگرمی میں ملوث نہیں تھیں۔
کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ عراقی حکومت کی منظوری صرف داعش اور القاعدہ سے وابستہ افراد اور تنظیموں کے لیے تھی، دیگر تنظیموں کے نام شامل ہونے کی وجہ فہرست شائع کرنے سے قبل اس میں اصلاح نہ ہونا تھا۔
یہ صورتحال گزشتہ ماہ (نومبر 2025) وزارت انصاف کے سرکاری جریدے میں شائع ہونے والی اس فہرست کے بعد پیدا ہوئی، جس میں ان گروہوں اور تنظیموں کے فنڈز منجمد کرنے کا ذکر تھا، حزب اللہ اور حوثیوں کے نام بھی شامل کیے گئے تھے۔ اس قدم کو اس وقت واشنگٹن کی جانب سے خوش آمدید اور تہران پر دباؤ بڑھانے والا اقدام قرار دیا گیا، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔اس شائع شدہ فہرست پر عراقی سرگرم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید اور ملک بھر میں وسیع مباحثہ سامنے آیا۔