یمن میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہيثم طبطبائی کی وائرل تصویر
اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ نومبر میں طبطبائی کو بیروت کے جنوبی مضافات میں نشانہ بنایا تھا
یمن میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم طبطبائی کی ایک تصویر گردش کر رہی ہے، حالانکہ اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ نومبر میں انہیں بیروت کے جنوبی مضافات میں موجودگی کے دوران نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی میڈیا نے انہیں حزب اللہ میں نائب سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بعد دوسرا اہم ترین شخص قرار دیا ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق طبطبائی نے حزب اللہ میں اعلیٰ عسکری عہدے سنبھالے اور شام و یمن میں اہم فوجی ذمہ داریاں انجام دیں۔عبرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ طبطبائی نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران حزب اللہ کی نخبۃ فورسز کی قیادت کی۔
گذشتہ سال انہوں نے محمد حيدر کے ساتھ مل کر تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی میں کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق جس مقام پر وہ موجود تھے، اس پر کی گئی یہ تیسری اسرائیلی فضائی کارروائی تھی جس میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔
مزید اطلاعات کے مطابق طبطبائی کے والد ایرانی اور والدہ لبنانی ہیں، وہ لبنان میں ہی مقیم ہیں۔
ہیثم علی طبطبائی حزب اللہ کی خصوصی فورس ''رضوان یونٹ'' کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں، جنہوں نے شام اور یمن میں عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا۔ وہ امریکا کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔