صحرائے نفود حائل - الجوف سڑک کے مشرق میں روئل ریزرو کے دائرے میں واقع ہے
سعودی عرب کا صحرا "ڈارک اسکائی انٹرنیشنل" کے منظور شدہ مقامات کی فہرست میں شامل
سعودی عرب میں "امام ترکی بن عبداللہ روئل ریزرو" کی ترقیاتی اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ صحرائے نفود (نفود الکبیر) کو Dark Sky International سوسائٹی کی جانب سے با ضابطہ منظوری مل گئی ہے۔ اس طرح یہ صحرا عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈارک اسکائی مقامات میں شامل ہو گیا ہے ... اور دنیا بھر کے ان 250 سے زائد مقامات میں شامل ہو گیا ہے جو روشنی کی آلودگی سے محفوظ قرار دیے گئے ہیں۔ مذکورہ روئل ریزرو کی ترقیاتی اتھارٹی کے سی ای او انجینئر محمد الشعلان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بین الاقوامی منظوری، مملکت کی ماحولیات اور قدرتی مقامات کے تحفظ میں دل چسپی کا مظہر ہے۔
ان کے مطابق یہ رات کے ماحول کو محفوظ رکھنے اور روشنی کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے بہترین عالمی طریقوں کو لاگو کرنے کے لیے اتھارٹی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ صحرائے نفود سعودہ عرب میں حائل - الجوف سڑک کے مشرق میں امام ترکی بن عبداللہ روئل ریزرو کے دائرے میں واقع ہے اور تقریباً 13416 مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ خصوصیت اسے خطے میں سب سے بڑے منظور شدہ ڈارک اسکائی مقامات میں سے ایک بناتی ہے اور مملکت میں سب سے کم روشنی کی آلودگی والے مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ منظوری صحرائے نفود کی جانب سے بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے معیار پر پورا اترنے کے بعد ملی ہے۔
یہ ایک مربوط سائنسی کام کا نتیجہ ہے جس میں فیلڈ اسٹڈیز، درست فلکیاتی مشاہدہ اور رات کے جدید تجزیے شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ رات کے قدرتی مناظر کی حفاظت، ماحولیاتی نظام کے استحکام کو فروغ دینے اور اس مقام کو قدرتی آسمان کے تحفظ میں ایک عالمی ماڈل بنانے کی کوششوں کے تحت اتھارٹی نے صحرائے نفود کے دائرے میں رات کی روشنی کے انتظام اور روشنی کی آلودگی کے ذرائع کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی انجینئرنگ کے طریقوں کو بھی لاگو کیا۔ الشعلان کا خیال ہے کہ امام ترکی بن عبداللہ روئل ریزرو کے دائرے میں صحرائے نفود کو ڈارک اسکائی مقام کے طور پر تسلیم کیا جانا ایک معیاری قدم ہے جو ریزرو کی بین الاقوامی نقشے پر موجودگی کو بڑھاتا ہے۔
مزید یہ کہ فلکیاتی سیاحت، سائنسی تحقیق اور خصوصی ماحولیاتی تجربات کے نظام کو فروغ دینے میں معاون ہے۔ یہ ویژن 2030 کے مقاصد کے عین مطابق ہے جس میں سیاحتی مقامات کو متنوع بنانا اور معیار زندگی کو بہتر بنانا شامل ہے۔
یہ منظوری زائرین اور محققین کو ایک نایاب قدرتی ماحول میں ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کو دیکھنے اور فلکیاتی مظاہر کا مشاہدہ کرنے کے غیر معمولی مواقع فراہم کرتی ہے، جو کم روشنی کی آلودگی اور رات کے آسمان کی شفافیت سے ممتاز ہے۔ الشعلان کے مطابق اتھارٹی نے علاقے کی تلاش اور خصوصی سائنسی مطالعات اور تحقیق پر کام کیا ہے جس نے اس مقام کی فلکیاتی خصوصیات کو جاننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے علاوہ سیاحت کے معاون تجربات کو بھی فروغ دیا گیا ہے، جن میں "دی لیف" کیمپ بھی شامل ہے جو ڈارک اسکائی کے دائرے کے قریب قائم کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ زائرین کو ایک نایاب قدرتی ماحول میں مکمل رات گزارنے اور رات کے آسمان کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صحرائے نفود کی ڈارک اسکائی منظوری، ماحول اور معیشت دونوں پر ریزرو کے اثرات کو بیک وقت زیادہ سے زیادہ کرنے کی اتھارٹی کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ بین الاقوامی تجربات فلکیاتی سیاحت کے مقامی معیشتوں کی حمایت کرنے اور سیاحوں کی آمد میں اضافہ کرنے پر مثبت اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ منظوری امام ترکی بن عبداللہ روئل ریزرو کی ایک جدید ماحولیاتی، سائنسی اور سیاحتی مقام کے طور پر حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔ علاوہ ازیں قدرتی وسائل کے تحفظ، روشنی کی آلودگی کو کم کرنے اور بین الاقوامی ماحولیاتی اقدامات میں مملکت کی موجودگی کو بڑھانے میں اتھارٹی کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈارک اسکائی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی بنیاد 1988 میں امریکہ میں رکھی گئی تھی اور اسے ڈارک اسکائی مقامات کی منظوری اور درجہ بندی کے لیے عالمی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ آج 6 براعظموں کے 22 ممالک میں روشنی کی آلودگی سے محفوظ 1.6 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ اراضی موجود ہے۔