اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پیر کے روز امریکی صدر سے ملاقات کریں گے : اسرائیلی حکام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اتوار کے روز امریکہ روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ اگلے روز فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ بات اسرائیلی حکام نے مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔
رواں سال کے دوران نیتن یاہو کا یہ امریکہ کا پانچواں دورہ ہوگا۔ جس میں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر چکی ہے اور اب جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دسمبر کے وسط میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امکانی طور پر نیتن یاہو کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر ان سے فلوریڈا میں ملاقات کریں گے۔ ہماری یہ ملاقات رسمی نہیں ہوگی لیکن وہ مجھے ملنے آئیں گے۔
اسرائیلی اخبار یدیود اخرونوٹ کے مطابق دونوں سربراہوں کی ملاقات کے دوران علاقائی ایشو زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اور ایران سے متعلق امور اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سلامتی معاہدہ، حزب اللہ سے ہتھیار واپس لینا اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے بات چیت اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔
یاد رہے ایک روز قبل اسرائیل نے صومالیہ کی سرزمین پر ایک نئے ملک صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جسے نیتن یاہو نے ابراہم معاہدے پر عملدرآمد کی روح کے مطابق قرار دیا۔ تاہم عرب دنیا اور عرب و افریقی ممالک سمیت پوری مسلم دنیا میں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اعلان کو مسترد کیا گیا ہے۔
دوسری طرف 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ سست روی کا شکار ہے۔ جبکہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں پر بمباری کر چکا ہے۔ اسرائیل حماس پر بھی خلاف ورزیوں کے الزام لگاتا ہے۔
جنگ بندی پر عمل کے دوسرے مرحلے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل غزہ سے فوج کا انخلاء کرے گا، ایک عبوری انتظامیہ غزہ کے لیے تشکیل پائے گی اور بین الاقوامی استحکام فورس کی غزہ میں تعیناتی ممکن بنائی جائے گی۔
اس دوسرے مرحلے میں یہ بھی امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ حماس کو ہتھیاروں سے دستبردار کیا جائے گا تاہم یہ ایک مشکل معاملہ نظر آتا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سے نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ اہم ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش ہے کہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت غزہ کا انتظام سنبھالے اور جلد سے جلد بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی ہو جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر حکام کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود نیتن یاہو کی طرف سے کیے گئے بعض اقدامات سے ردعمل پیدا ہو رہا ہے اور جنگ بندی معاہدہ کمزور ہو رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایران کے از سر نو جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے اور ایرانی بیلیسٹک میزائل کی صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات نیتن یاہو کے مذاکراتی ایجنڈے میں اہم ہوں گے۔