غزہ سے تعلق رکھنے والی کینسر زدہ فلسطینی بچی اب سعودی امدادی ایجنسی کے ایس ریلیف کی بدولت اردن کے ایک سپیشلسٹ ہسپتال میں داخل ہو گئی ہیں اور علاج سے قبل ان کے طبی معائنے کا عمل جاری ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے جمعہ کو اطلاع دی کہ روزا الدریملی کو کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) کے امدادی اقدام کے ذریعے غزہ کی پٹی سے عمان پہنچایا گیا۔ یہ اقدام سعودی عرب کے اُس عزم کی عکاسی کرتا ہے جو تشویشناک بیماریوں میں مبتلا فلسطینیوں کو طبی اور جان بچانے والی امداد فراہم کرنے کے لیے ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا، چونکہ طبی جائزوں میں دماغ کے آخری حصے میں کینسر کے خلیات کا جدید علاج کرنے کی ضرورت کی نشاندہی ہوئی تھی تو وہ اب کنگ حسین کینسر سینٹر (کے ایچ سی سی) میں داخل ہیں۔
"بچوں میں دماغی رسولی کے علاج میں مہارت رکھنے والی ایک میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں بچی کی گہری طبی نگرانی اور وقتاً فوقتاً معائنے جاری ہیں تاکہ فی الحال رسولی کے علاج کے ردِ عمل کا اندازہ لگایا جائے، طبی حالت پر قابو پانا یقینی ہو اور رسولی کے مقام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ اعصابی یا بصری پیچیدگیوں کو روکا جائے۔" ایس پی اے نے کہا۔
خاندان نے کے ایس ریلیف کی فوری مداخلت کے لیے بہت زیادہ شکریہ ادا کیا اور مشاہدہ کیا کہ کے ایچ سی سی میں فراہم کردہ خصوصی نگہداشت سے بچی کی صحت یابی کی ایک نئی امید ملی ہے۔
اسرائیلی فوج کی 26 ماہ کی بمباری کے دوران ہسپتالوں کی تباہی کے باعث غزہ کی پٹی میں اس طرح کی خصوصی نگہداشت اور علاج فی الحال دستیاب نہیں ہے۔