شدید سردی (علامتی تصویر)

نیلا کر دینے والی سردی ... سعودی عرب میں موسمِ سرما کی شدید ترین لہر کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سالِ نو کے آغاز کے قریب آنے کے ساتھ ہی خطے میں شدید سردی کی لہر کی آمد ہے، جسے ماہرین سال کا سرد ترین مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں ماہرِ موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق نے "برد الازیرق" (نیلا کر دینے والی سردی) کے آغاز سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتہ "مربعانیہ" (40 روزہ سردی کا دورانیہ) کے آخری ستارے "الشولہ" کا آغاز ہے، جس کے بعد "شباط" کا موسم شروع ہوگا جو اپنی تند و تیز ہواؤں کے لیے مشہور ہے۔ قدیم عربوں کے مطابق سال کے آخری تین دن اور نئے سال کے ابتدائی تین دن موسمِ سرما کے سرد ترین دن ہوتے ہیں۔

تبوک میں برف باری کا منظر (آرکائیو)

ڈاکٹر الزعاق کے مطابق اس دورانیے میں راتیں طویل اور دن مختصر ہو جاتے ہیں، جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ "برد الازیرق" کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس میں خون جما دینے والی سردی سے انسانی جسم نیلا پڑنے لگتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ لوگ گرم کپڑوں کی تہیں بڑھا دیں، ایک کے بجائے دو کوٹ یا فر کی جیکٹ استعمال کریں اور رات کے پچھلے پہر اور صبح سویرے خاص احتیاط برتیں۔ اس کے علاوہ مال مویشیوں کو بھی بھس اور قالینوں کے ذریعے سردی سے بچانے کی تاکید کی گئی ہے۔

سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات (NCM) نے ریاض، قصیم، حائل اور دیگر صوبوں کے لیے انتباہ جاری کیے ہیں۔ حائل کے لیے "ریڈ الرٹ" جاری کیا گیا ہے جہاں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ ایک کلومیٹر سے بھی کم رہ سکتی ہے۔ دیگر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش، ژالہ باری اور بجلی چمکنے کے امکانات ہیں۔

عرب موسمیاتی مرکز نے بھی خبردار کیا ہے کہ بلادِ شام سے آنے والی ایک شدید قطبی لہر سعودی عرب کے ساتھ ساتھ عراق، کویت، بحرین، قطر اور امارات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور رات کے وقت کہر پڑنے کے قوی امکانات ہیں۔ تبوک، الجوف اور شمالی حدود کے صوبوں میں گرد آلود ہوائیں اور مٹی کے طوفان بھی متوقع ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں