قاہرہ : دریائے نیل پر ڈیم تنازعے کے سلسلے میں ٹرمپ کی ثالثی پیشکش قابل تعریف ، السیسی
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اس پیشکش کا خیر مقمدم کیا ہے جو انہوں نے دریائے نیل پر ایتھوپیا کی طرف سے بنائے جانے والے ڈیم سے پیدا شدہ تنازعے کے لیے ثالثی کرانے کے لیے کی ہے۔
صدر السیسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ ٹرمپ کے خط سے مصر کے پانی کے مسئلے کے حوالے سے ٹرمپ کی تشویش ظاہر ہوئی ہے اور ہم اس کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔
یاد رہے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل پر ڈٰیم بنانے کے ایتھوپین منصوبے سے پیدا شدہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔ تاکہ دونوں کے درمیان ثالثی ہوجائے۔
خیال رہے اس ڈیم منصوبے پر مصر کے علاوہ سوڈان بھی تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ اس سے دونوں ملکوں کو پانی کی فراہمی نمایاں طور پر متاثر ہوگی۔
مصر ایک طویل عرصے سے دریائے نیل پر ایتھوپیا کے ڈیم منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اپنی پریشانی کا ذکر کرتا رہا ہے کہ اس سے مصر کے لیے پانی کی فراہمی پر زد پڑے گی اور جس سے مصر کی زراعت و صنعت دونوں متاثر ہوں گی۔ کیونکہ مصر کا پانی کے حوالے سے بڑا انحصار دریائے نیل پر ہے۔
مصر کے علاوہ جو ملک دریائے نیل کے پانی پر انحصار کرتا ہے وہ سوڈان ہے۔ سوڈان نے بھی ڈیم بنانے کے ایتھوپیا کے منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے سوڈان کے آبی منصوبوں کے علاوہ پانی کی فراہمی پر برا اثر پڑے گا۔
سوڈان کی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرھان نے بھی صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔
یاد رہے ایتھوپیا ایک کروڑ 20 لاکھ کی آبادی کا ملک ہے اور دریائے نیل پر 5 ارب ڈالر کی لاگت سے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تاکہ اپنے اقتصادی منصوبوں اور ضرورتوں کو بآسانی آگے بڑھا سکے۔ جبکہ ایتھوپیا اس سلسلسے میں مصری تشویش اور دعووں دونوں کو مسترد کرتا ہے۔