وزير الصحة المصري أثناء جولته التفقدية بمعبر رفح ومستشفيات العريش

مصری وزیر صحت کا رفح کراسنگ پہنچ کر غزہ کے زخمیوں اور مریضوں کے علاج کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایات پر نائب وزیر اعظم اور وزیر صحت ڈاکٹر خالد عبدالغفار نے رفح کی گزرگاہ اور شمالی سینا کی طبی تنصیبات کا تفصیلی دورہ کیا تاکہ غزہ کی پٹی سے آنے والے فلسطینیوں کے استقبال کیا جائے اور علاج کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دورے کا مرکز "ہیلتھ ایمرجنسی سروسز کے قومی منصوبے" کی تیاریوں کو یقینی بنانا تھا۔ وزیر صحت نے آنے والوں کو ٹھہرانے، ان کے اہل خانہ کی رہائش اور ساتھیوں کے لیے رہائشی مراکز کے اندر طبی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔

انہوں نے قرنطینہ پوائنٹ کا معائنہ کیا اور ادویات اور ویکسین کے سٹریٹجک ذخیرے کی دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے 40 ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیموں کی تیاری کی تعریف کی جنہیں 60 ایمبولینسوں، موبائل کلینکس، ایمرجنسی کیئر پوائنٹس، جدید ایکسرے گاڑیوں اور ماہر ٹیموں کی مدد حاصل ہے۔

لوجسٹک راستہ اور نفسیاتی مدد

مصر کے وزیر صحت نے مریضوں کے لوجسٹک راستے کا بھی جائزہ لیا جس کا آغاز کراسنگ پر ابتدائی معائنے سے ہوتا ہے، پھر العریش جنرل ہسپتال میں درجہ بندی کی جانتی ہے اور آخر میں مخصوص طبی مہارتوں کے مطابق انہیں ملک بھر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نفسیاتی مدد فراہم کرنے میں مصری ہلال احمر کے ساتھ ہم آہنگی کی تعریف کی اور پٹی میں واپس جانے والے فلسطینیوں کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ واپس جانے والے فلسطینیوں نے اس انسانی ہمدردی کی کوشش پر مصر کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

اس دورے میں "شیخ زوید" اور "العریش جنرل" ہسپتال شامل تھے جہاں وزیر عبدالغفار نے آپریشن تھیٹرز اور ڈائیلاسز یونٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور بچوں کے نفسیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے بچوں کے کھیل کے علاقے کی توسیع کی ہدایت کی۔ مصر نے رفح کراسنگ کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ہی غزہ سے آنے والے زخمیوں کے استقبال اور علاج کے لیے ایک وسیع پیمانے پر منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ملک بھر کے تقریباً 150 ہسپتال شامل ہیں۔ اس ہسپتال میں توسیع کی مکمل گنجائش اور ایمرجنسی شعبوں میں تقریباً 12 ہزار ڈاکٹرز اور 18 ہزار سے زائد نرسنگ اسٹاف دستیاب ہے۔

مصر نے فوری کارروائی کے لیے سینٹرل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی 30 ریپڈ رسپانس ٹیموں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 250 سے 300 اعلیٰ لیس ایمبولینسیں تیار کی ہیں۔ اسی طرح روزانہ 1000 بلڈ ٹرانسفیوژن آپریشنز کے لیے سٹریٹجک ذخیرہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں