غزہ سے فلسطینیوں کا رفح کے راستے نکلنے کا سلسلہ شروع، اب تک زیادہ تر مریض اور زخمی فلسطینی
مئی 2024 سے مکمل بند کردی گئی رفح راہداری کے کھلنے کے ساتھ ہی غزہ سے انتہائی زخمی اور مریض فلسطینیوں کا آنا شروع ہو گیا ہے۔ یہ فلسطینی اپنے علاج معالجے کے لیے مصر کا رخ کر رہے ہیں۔
پیر کے روز توقع کی جارہی تھی کہ 150 کے قریب زخمی اور مریض مصر میں داخل ہوں گے۔ اس امر کی تصدیق مصری حکام کی طرف سے بھی کی گئی ہے۔ مصری حکام کے مطابق علاوہ ازیں پچاس فلسطینیوں کو واپس غزہ میں داخل ہوسکنے کی توقع تھی۔ یہ آمدو رفت مصری حکام کے مطابق بیس ماہ بعد دیکھنے میں آرہی ہے۔
اس سلسلے میں تین ایمبولیسز گزری ہیں جو مریضوں کو لے جا رہی تھیں۔ تاکہ غزہ کے ان زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر سکیں۔
رفح راہداری کے اس جزوی طور پر کھولے جانے کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور غزہ میں اختتام ہفتہ کے موقع پر بھی اسرائیل نے بمباری ہے۔
تاہم اسرائیلی فوج نے اپنے پہلے سے تیار کرہ بیان کو دہرایا ہے کہ اس نے عسکریت پسندوں کو جواب دیا ہے۔
مصر کی طرف کھلنے والی یہ رفح راہداری غزہ کا واحد راستہ ہے جو بیرونی دنیا کی طرف بتوسط مصر کھلتا ہے۔ باقی سب راہداریاں اسرائیل میں کھلتی ہیں۔ رافح راہداری ہی انسانی آمدورفت کے علاوہ اشیاء کی ترسیل اور نقل وحمل کے لیے سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔
38 سالہ محمود لیکیومیا کا مریض ہے اس نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہسپتال میں علاج کا موقع مل سکے گا۔ اسرائیل نے ہمشیرہ کے ساتھ سفر کی اجازت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا غزہ میں کوئی علاج گاہ نہیں بچی ہے۔ جنگی تباہی کے بعد وہاں زندگی مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ میں خوش قسمتی سے اب نکل سکا ہوں تو علاج کرا سکوں گا۔ لیکن میری پریشانی کی بات یہ ہے کہ میرے ماں باپ آج بھی غزہ میں مجبور زندگی گزار رہے ہیں۔
فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شاث نے رفح راہداری کے کھلنے کو امید کی کھڑکی کھل جانے سے تعبیر کیا ہے۔ علی شاث کی ٹیکنوکریٹ کمیٹی صدر ٹرمپ کے زیر صدارت قائم کیے گئے امن بورڈ کی ماتحتی میں کام کرے گی۔
یاد رہے راہداری کا جزوی طور پر کھولنے کا اعلان اتوار کے روز ہوا تھا۔ تاہم پیر کے روز پہلی بار آمدورفت شروع ہو سکی۔
مصر کے شمالی سینائی کے گورنر کا کہنا ہے کہ 50 فلسطینی مریض اپنے 84 تیمارداروں کے ساتھ غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی ریڈیو 'کان' نے رپورٹ کیا ہے کہ رفح راہداری یومیہ 6 گھنٹوں کے لیے کھلی رہے گی جبکہ 'القاہرہ نیوز' کی طرف کا کہنا ہے کہ مصر کی طرف سے یہ راستہ 24 گھنٹے کھلا رہے گا۔
30 سالہ عبدالرحیم محمد نے کہا کہ میں آج میں اپنی اماں سے گلے مل سکوں گا جو ایک طویل عرصے بعد مصر سے غزہ داخل ہوں گی اور مصر میں کینسر کے علاج کے لیے موجود تھیں۔ دو روز پہلے والدہ نے اطلاع دی تھی کہ وہ مصر سے غزہ آرہی ہیں اور مجھے فون پر کہا تھا کہ رفح پر میرا انتظار کرنا۔ میں آج بہت خوش ہوں کہ آج اپنی اماں سے گلے ملوں گا۔
اسرائیلی فوج کا اب بھی رفح پر قبضہ جاری ہے۔ جبکہ غزہ کے نصف سے زائد حصے پر اسرائیلی فوج کا ہی کنٹرول ہے۔ بقیہ حصہ حماس کے زیر اثر ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجاکالاس نے راہداری کھلنے پر کہا ہے کہ یہ ایک ٹھوس اور مضبوط قدم ہے جس کے نتیجے میں امن کا منصوبہ آگے بڑھے گا۔
امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف آج منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں۔ امکانی طور پر یہ ملاقات اسرائیل میں ہوگی مگر اس کی جگہ کے تعین کے بارے میں نہیں بتایا گیا نہ ہی یہ بتایا گیا کہ بات چیت کا موضوع کیا ہوگا۔
وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جنوری کے اواخر میں اسرائیل کادورہ کیا تھا اور نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔ یہ تھوڑے وقفے کے بعد ان کی دوسری ملاقات ہوگی۔
غزہ میں قائم الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمود ابو سلامیہ نے کہا ہے کہ غزہ میں 20 لاکھ ایسے مریض موجود ہیں جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔ ان میں 4500 بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم ان مریضوں کے لیے کوئی علاج کا امکان ابھی موجود نہیں ہے کہ ان کے لیے کوئی امداد غزہ میں داخل نہیں ہو سکی۔
'القاہرہ نیوز' کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے 150 ہسپتالوں اور 300 ایمبولینسز گاڑیوں کو تیار کر رکھا ہے تاکہ غزہ سے آنے والے فلسطینی مریضوں کا فوری علاج ہو سکے۔
اسرائیلی فوج اب تک غزہ میں بمباری کر کے 71800 لوگوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ ان میں کئی سو وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے بعد قتل کیا ہے۔