مشرق وسطیٰ کی جانب پیش قدمی، امریکی بحری بیڑے "جیرڈ فورڈ" کو آپریشنل چیلنجز کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جیرڈ آر فورڈ" گذشتہ جمعہ کو بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر فوجی تعیناتی میں اضافے کے سلسلے میں امریکی عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو ایران پر ممکنہ حملے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ بھیجنے کے لیے "یو ایس ایس جیرڈ آر فورڈ" کے مشن میں دوسری بار توسیع کے فیصلے نے ہزاروں سیلرز کو 11 ماہ تک سمندر میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی نیوی اور حکام کے مطابق اس فیصلے نے امریکی بحریہ کے اندر آپریشنل چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

بحریہ چھوڑنے پر غور

’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق توسیع کے فیصلے نے کچھ بحاروں کو وطن واپسی پر امریکی بحریہ چھوڑنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ بردار جہاز گذشتہ جون سنہ 2024ء سے سمندر میں موجود ہے۔

ریٹائرڈ امریکی جنرل مارک مونٹگمری نے کہا کہ امن کے زمانے میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی عام طور پر 6 ماہ تک رہتی ہے جس میں ضرورت پڑنے پر کچھ توسیع کی گنجائش ہوتی ہے۔

مونٹگمری نے مزید کہا کہ "جیرڈ فورڈ" کے بحارے اب تک 8 ماہ سے اپنے گھروں سے دور ہیں اور اس توسیع کے بعد یہ مشن 11 ماہ تک جا سکتا ہے جو امریکی بحریہ کے کسی بھی جہاز کے طویل ترین مسلسل مشن کا ریکارڈ توڑ دے گا۔

دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے بیان میں سروس سے وابستہ چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قیادت نیوی سیلرز اور ان کے خاندانوں کی مدد کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔

غصہ اور بے چینی

"جیرڈ فورڈ" پر موجود ایک خاتون سیلر نے بتایا کہ عملے کے کئی ارکان غصے اور بے چینی کا شکار ہیں اور کچھ مشن ختم ہونے پر بحریہ چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود بھی استعفیٰ دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کو بہت یاد کرتی ہیں لیکن انہیں اپنی واپسی کی تاریخ کا علم نہیں۔

طیارہ بردار جہاز کے کمانڈر کیپٹن ڈیوڈ سکاروسی نے بھی سروس میں اس اضافی توسیع پر اپنی "ناگواری" کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے پر حیران رہ گئے تھے۔

11 طیارہ بردار بحری جہاز

امریکی بحریہ کے پاس مجموعی طور پر 11 طیارہ بردار بحری جہاز ہیں جو پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ کسی بھی وقت ان میں سے کچھ دنیا کے مختلف علاقوں میں تعینات ہوتے ہیں جبکہ کچھ مشقوں میں مصروف اور کچھ مرمت کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

"جیرڈ فورڈ" کے علاوہ طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس ابراہیم لنکن" اور اس کے اسٹرائیک گروپ کو بھی مشرق وسطیٰ بھیجا گیا ہے۔

مونٹگمری کے مطابق تعیناتی کے طویل دورانیے خود جہازوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ سمندر میں 8 ماہ گزارنے کے بعد آلات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ مرمت و اپ گریڈیشن کے کام موخر کرنے پڑتے ہیں جس سے شپ یارڈز کا پورا شیڈول متاثر ہوتا ہے اور دیگر جہازوں کی تربیت و دیکھ بھال پر بھی اثر پڑتا ہے۔

مراکز صحت اور نکاسی کے مسائل

پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے جیمی بروسر نے بتایا کہ جب جہاز "خفیہ موڈ" میں ہوتا ہے تو انہیں کئی ہفتوں تک اپنے بیٹے کی خیریت معلوم نہیں ہوتی جو "جیرڈ فورڈ" پر فلائٹ ڈیک کنٹرولر کے طور پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے نے تفصیل بتائے بغیر جہاز پر موجود بیت الخلاؤں (ٹوائلٹس) میں مسائل کا ذکر کیا تھا۔ گذشتہ جنوری سنہ 2024ء میں ریڈیو این پی آر نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ "جیرڈ فورڈ" کے متعدد بیت الخلا خراب ہو چکے تھے۔

امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ جہاز کا نکاسی کا نظام جو تقریباً 650 بیت الخلاؤں سے فضلے کی منتقلی کے لیے ویکیوم ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، تعیناتی کے دوران کچھ مسائل کا شکار رہا اور اوسطاً روزانہ ایک شکایت موصول ہوتی رہی تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ صورتحال بہتر ہے اور اس سے جہاز کی مشن کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں پینٹاگان نے "یو ایس ایس جیرڈ آر فورڈ" کو بحیرہ روم کے مشن سے ہٹا کر بحیرہ کیریبین کی طرف بھیج دیا تھا تاکہ تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے اور وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے مشن میں مدد دی جا سکے۔

بعد ازاں فروری میں عملے کو مشن میں دوبارہ توسیع کا نوٹس ملا جس کا مطلب بحر اوقیانوس کے راستے واپس مشرق وسطیٰ پہنچ کر ایران پر ممکنہ امریکی فضائی حملوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں