امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: ایرانی صدر

عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں : مسعود پزشکیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ یہ بات انہوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے تناظر میں کہی۔

مسعود پزشکیان نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں مزید کہا عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں، لیکن ہم ان تمام مسائل کے باوجود سر نہیں جھکائیں گے جو وہ ہمارے لیے پیدا کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہم تمام سختیوں اور مسائل کے باوجود کسی بھی آزمائش کے سامنے ہار نہیں مانیں گے، ہم مشکلات کا مقابلہ کریں گے اور حتمی فتح ہمارا مقدر ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو بتایا تھا کہ وہ رواں ہفتے امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے بعد چند دنوں میں ایک جوابی تجویز کا مسودہ تیار کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محدود فوجی حملے کرنے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی حکام نے "رائٹرز" کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکی فوج کی منصوبہ بندی ایڈوانس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جس میں حملے کے دوران افراد کو نشانہ بنانے اور اگر ٹرمپ حکم دیں تو تہران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش جیسے اختیارات شامل ہیں۔ ٹرمپ نے تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور وارننگ دی کہ معاہدے نہ ہوا تو انتہائی سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمک کی آمد سے وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

گزشتہ جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات اور کچھ فوجی مقامات پر بمباری کے بعد ٹرمپ نے جنوری میں تہران میں وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران دوبارہ حملوں کی دھمکی دینا شروع کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں