ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی

امریکہ نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اسے اس قدر سختی کا سامنا کرنا پڑے گا : ایرانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ماہ جنوری سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی کے درمیان، ایران نے اپنی انتباہی مہم تیز کر دی ہے اور کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لیے اپنی آمادگی کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے پیر کے روز "دافوس" ملٹری یونیورسٹی کے طلبا کی گریجویشن تقریب کے دوران کہا کہ ان کا ملک "کوئی تر لقمہ نہیں ہے... اور اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم کمزوری کی پوزیشن میں ہیں اور وہ طاقت کی پوزیشن میں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے"۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اپنی فوجی موجودگی کے باوجود اسے اس قدر سختی کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم کمزوری کی حالت میں ہیں اور وہ طاقت کی حالت میں ہے، لیکن وہ غلطی پر ہے، کیونکہ عظیم ایران کو ہضم کرنا ناممکن ہے"۔

اسی طرح انہوں نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا کہ دشمن ناقابلِ شکست ہے۔ انھوں یاد دلایا کہ "امریکہ نے ویتنام، افغانستان اور عراق میں جنگیں لڑیں اور وہاں سے شکست کھا کر نکلا"۔

مزید برآں، انہوں نے اشارہ کیا کہ "دشمن ایرانی عوام کو تھکانے اور انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے"، لیکن انہوں نے اس کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

حاتمی نے اس بات پر زور دیا کہ "موجودہ حالات میں فوج کی ذمہ داری، بلا شبہ ایک فیصلہ کن ذمہ داری ہے"۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس بات کے امکانات بڑھ رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر محدود ضربیں لگائیں گے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔

یہ صورتحال ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز (جیرالڈ فورڈ) کی مشرق وسطیٰ کی جانب روانگی کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جہاں وہ ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہو جائے گا، تاکہ امریکی صدر کے کسی بھی فیصلے کے لیے تیاری مکمل رہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں