بھارتی وزارت خارجہ نے پیر کے روز اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے جس کی وجہ تہران پر ممکنہ امریکی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔
تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہاں موجود بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تجارتی پروازوں سمیت دستیاب ذرائع سے ملک چھوڑ دیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت ایران میں تقریباً دس ہزار بھارتی شہری مقیم ہیں۔
— India in Iran (@India_in_Iran) February 23, 2026
نئے اتحاد کی دستک
یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز اسرائیل کا اہم دورہ کرنے والے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنی کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں اعلان کیا کہ نریندر مودی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔
بنجمن نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے اندر اور باہر ایسے نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو اقتصادی، سفارتی اور سکیورٹی تعاون پر مبنی ہوں تاکہ ان کے بقول مشترکہ انتہا پسند دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مستحکم دوستی
دوسری جانب نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران نتیجہ خیز بات چیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اپنی مستحکم دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے جو اعتماد، جدت اور امن و ترقی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔
Thank you, my friend, Prime Minister Netanyahu.
— Narendra Modi (@narendramodi) February 22, 2026
I fully agree with you on the bond between India and Israel as well as the diverse nature of our bilateral relations. India deeply values the enduring friendship with Israel, built on trust, innovation and a shared commitment to… https://t.co/snGra7RB3g
واضح رہے کہ نریندر مودی نے سنہ 2017ء میں اسرائیل کا پہلا دورہ کیا تھا جو کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا، جس کے جواب میں بنجمن نیتن یاھو نے اگلے سال بھارت کا دورہ کیا تھا۔