من جنوب لبنان (أرشيفية من رويترز)
اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے اندر بعلبک کے علاقے میں حزب اللہ کی "رضوان فورس یونٹ سے وابستہ آٹھ کیمپوں پر بمباری کی ہے۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے کہا کہ نشانہ بنائے گئے کیمپوں کو جنگی سازوسامان ، اسلحہ اور میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وہاں یونٹ کے ارکان کی تربیت بھی کی جاتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "رضوان فورس" کے ارکان نے ان کیمپوں میں نشانہ بازی اور مختلف اقسام کے جنگی ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کی تھی۔ یہ فورس ہنگامی حالات کی تیاری اور اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف آپریشنز کی منصوبہ بندی اور نفاذ کے لیے بنائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان مقامات پر حزب اللہ کے ارکان کی سرگرمیاں اور دوبارہ مسلح ہونے کی کوششیں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی خلاف ورزی اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے زور دیا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو طاقت بڑھانے یا دوبارہ مسلح ہونے کی اجازت نہیں دے گی اور کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔
جنگ بندی کے باوجود حملے
واضح رہے کہ اسرائیل نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ جنگ بندی حزب اللہ کے ساتھ ایک سال سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے بعد طے پائی تھی۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی پانچ سٹریٹجک پہاڑیوں پر اپنی فوجیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ معاہدے میں اسرائیل کے لبنان سے مکمل انخلاء کی شرط موجود تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاد رہے لبنانی فوج نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اپنے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے جس میں دریائے لیطانی کے جنوب کا علاقہ شامل ہے۔ یہ دریا اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔