اسرائیل نے لبنان کو بالواسطہ پیغام بھیجا ہے کہ اگر حزب اللہ امریکہ-ایران جنگ میں شامل ہوئی تو وہ لبنان پر سخت حملہ کرے گا جس میں ایئرپورٹ سمیت شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جائے گا، یہ بات دو سینئر لبنانی عہدیداروں نے منگل کو کہی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر اور لبنانی ایوانِ صدر نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
مخالفین کے درمیان فوجی تصادم کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ایران اور امریکہ جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں جمعرات کو منعقد کریں گے۔
شیعہ مسلم مزاحمتی گروپ حزب اللہ 1982 میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے قائم کیا تھا۔
حزب اللہ کے نئے رہنما نعیم قاسم نے گذشتہ ماہ ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ یہ گروپ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل میں "غیر جانبدار نہیں" تھا اور یہ کہ اسے "ممکنہ جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔"
انہوں نے کہا، "ہم اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے کہ کیسے عمل کرنا ہے اور مداخلت کرنی ہے یا نہیں۔"
ایک سینئر اہلکار نے پیر کو بتایا، امریکی محکمہ خارجہ غیر ضروری سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو بیروت میں امریکی سفارت خانے سے نکال رہا ہے۔
-
امریکہ ایران جنگی خطرات ، بیروت میں امریکی سفارت خانے کو لبنان سے نکل آنے کی ہدایت
امریکہ نے پیر کے روز اپنے لبنان میں موجود سفارتی عملے کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ ...
مشرق وسطی -
ایران کشیدگی پر روبیو کا دورۂ اسرائیل میں 'تبدیلی کا امکان'
ایک امریکی اہلکار نے پیر کو کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اپنا دورۂ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل : ایران پر امریکی حملہ قریب تر ہے ، حکام
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ قریب تر ہو گیا ہے۔ یہ بات اسرائیل ...
مشرق وسطی