ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات کی بات ابھی ٹھوس شکل کو نہیں پہنچے : وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تصادم کے خاتمے کے لیے ممکنہ طور پر پاکستان میں مذاکرات کی تجویز ابھی سیال شکل میں ہی ہے ۔ انہوں نے اس امر کا اظہار اے بی سی ٹی وی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔
لیویٹ امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی نائب صدر جے ڈی وانس کے ساتھ اس معاملے میں ملاقات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ جیریڈ کشنر صدر ٹرمپ کے داماد ہیں ،تاہم صدر ٹرمپ انہیں ہر اہم بین الاقوامی معاملے میں کردار ادا کرنے کا موقع دیے ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا یہ حساس سفارتی امور ہیں ، اس لیے ان امور کو پریس کے سامنے زیر بحث نہیں لا سکتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نائب صدرسے ہونے والی ملاقات پر مفروضے قائم کریں تاوقتیکہ میٹنگ حتمی طور پر طے نہ ہو جائے اور اس کا باضابطہ اعلان سامنے نہ آجائے۔
لیویٹ نے البتہ پاکستان کے ایک عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے' اے بی سی ' ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ان مین ایک تجویز فریقین کے درمیان اسلام آباد میں براہ راست ملاقات کی بھی ہے۔
اس عہدے دار کے مطابق امکان ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ دنوں کے اندر اندر مذاکرات ممکن ہو جائیں گے۔ جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پانچ دنوں کا وقت دیا ہے۔
یاد رہے پاکستان کے ایک سرکاری ذمہ دار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت اسی ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہے۔ تاہم ایک خبر رساں ادارے کے مطابق اس بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ یا وزیر اعظم کے دفتر نےکچھ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے اس خطے کے علاوہ عالمی سطح پربھی اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔