قطر کا ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ

قطری وزارت خارجہ کہنا ہے کہ "ہماری توجہ فی الوقت اپنے ملک کے دفاع اور نقصانات سے نمٹنے پر مرکوز ہے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قطر نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے، جو ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد بھی بدستور جاری ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے آج منگل کے روز دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا "ہم اس فریم ورک میں تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، خواہ وہ رابطے ہوں یا سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع۔"

الانصاری نے مزید کہا "میں یہاں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کے حوالے سے قطر کی کوئی براہ راست کوشش شامل نہیں ہے۔ ہماری توجہ اس وقت مکمل طور پر اپنے ملک کے دفاع اور ریاستِ قطر کو مختلف حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔"

ایرانی شہروں خاص طور پر دارالحکومت تہران کو 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والے مشترکہ امریکی اسرائیلی حملے کے بعد سے تقریباً روزانہ بم باری کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ایران اس کا جواب اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کر کے دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا تو ایران میں بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا۔

بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں "اتفاق کے اہم نکات" طے پا گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ عہدے دار نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نہیں تھے۔

دوسری جانب ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کر دی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسے مذاکرات کی امریکی درخواست کے حوالے سے "دوست ممالک سے پیغامات" موصول ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں