وزير الخارجية الإيراني عباس عراقجي (أرشيفية- رويترز)
پاکستان کی مدد پر شکرگزار مگر ایران کی خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے: عباس عراقچی
جنگ کے چھٹے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود پاکستان امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک اسلام آباد کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور جنگ روکنے میں تعاون کی قدر کرتا ہے۔
تاہم رائٹرز کے مطابق اتوار کو سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے گذشتہ رات اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ تہران تمام دستیاب وسائل کے ساتھ اپنا دفاع کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ قومی خود مختاری کے دفاع کے لیے ان کے ملک کا عزم غیر متزلزل ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کے پیداواری اور صنعتی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ زیرِ نگرانی پرامن ایٹمی تنصیبات، ہسپتالوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے پر کڑی تنقید کی اور انہیں جنگی جرائم قرار دیا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ نے جنگ بندی اور خطے میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے اپنے ملک کی سفارتی کوششوں کا جائزہ پیش کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عراقچی نے ان افواہوں کی تردید کی کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے مذاکرات میں جنگ کا "حتمی اور مستقل خاتمہ" چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام اس سے قبل امریکہ کے ساتھ کسی بھی بالواسطہ مذاکرات کی تردید کر چکے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ عرصے میں کئی بار اس کا دعویٰ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے جاری بات چیت کو "بہت اچھا" قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 6 اپریل تک کی آخری مہلت دی ہے، بصورتِ دیگر "جہنم کے دروازے کھولنے" کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں تہران نے بھی دھمکی دی ہے کہ جہنم کے دروازے امریکی افواج پر کھلیں گے۔
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس میں ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری، افزودہ یورینیم کی حوالگی اور ایرانی میزائل پروگرام کو محدود کرنا شامل ہے۔ دوسری طرف ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے 5 شرائط پیش کی ہیں جن میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ اور ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔