افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: چین

چینی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کے انعقاد کی جگہ متعین نہیں کی، تاہم اسلام آباد اور کابل نے پہلے ذکر کیا تھا کہ یہ اورومچی شہر میں ہو رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ بیان آج جمعے کے روز ان رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے یہ دونوں پڑوسی ممالک چین میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ 2021 میں طالبان تنظیم کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے اب تک کے اپنے بد ترین تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

چین کی مغربی سرحد ان دونوں ممالک سے ملتی ہے اور وہ ان دو اتحادیوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے جو اب دشمن بن چکے ہیں۔ اس سلسلے میں چین نے گذشتہ ماہ مارچ میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے اور ایک خصوصی ایلچی کو دونوں ممالک کے دوروں پر بھیجا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا "پاکستان اور افغانستان دونوں ہی چین کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے"۔

ماؤ نینگ نے مذاکرات کے مقام کی وضاحت نہیں کی، تاہم دونوں پڑوسی ممالک نے پہلے بتایا تھا کہ یہ مذاکرات شمال مغربی چین کے شہر اورومچی میں ہو رہے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بیجنگ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کے لیے مناسب حالات پیدا کرنے اور مکالمے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے بات چیت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک مناسب وقت پر مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔

اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں افغانوں کا جانی نقصان زیادہ رہا ہے۔

اسلام آباد افغان طالبان تنظیم پر ان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مسلح بغاوت اس کے پڑوسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں