پوپ لیو چہاردہم دو دسمبر 2025 کو لبنان میں بیروت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانگی سے قبل ایک الوداعی تقریب کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

پوپ لیو: میں لبنانی عوام کے لیے ’پہلے سے کہیں زیادہ قریب‘ ہوں

اسرائیل اور امریکہ سے جنگ کے خاتمے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کو لبنان کے لوگوں سے اپنی قربت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حفاظت کرنا "اخلاقی ذمہ داری" ہے جبکہ متحارب فریقین سے امن کا مطالبہ کیا۔

شرقِ اوسط جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کا تعاقب کر رہا ہے اور لبنانی حکام نے اسرائیلی حملوں میں 2,000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

سینٹ پیٹرز اسکوائر پر پوپ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں غم، خوف اور خدا پر ناقابلِ تسخیر امید کے ان دنوں میں عزیز لبنانی عوام کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہوں۔"

انہوں نے کہا، "انسانیت کا اصول جو ہر شخص کے ضمیر میں نقش اور بین الاقوامی قانون میں تسلیم کردہ ہے، یہ اخلاقی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ شہری آبادی کو جنگ کے ظالمانہ اثرات سے بچایا جائے۔"

ماضی کی طرح امریکی پوپ نے نام لیے بغیر تنازعے فریقین سے پرامن حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کی جانب سے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

ہفتہ کو دعائے امن کے دوران ستر سالہ نرم گو پوپ لیو نے جنگ کے بارے میں اپنی اب تک کی شدید ترین نکتہ چینی اور رہنماؤں سے تشدد ختم کرنے کی التجا کی۔

انہوں نے کہا، "رک جائیں! یہ امن کا وقت ہے! مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں، اس میز پر نہیں جہاں دوبارہ ہتھیار بنانے کی منصوبہ بندی اور مہلک اقدامات کا فیصلہ کیا جاتا ہے!"

نیز کہا، "اپنی ذات اور پیسے کی پرستش بہت ہو گئی! طاقت کی نمائش بہت ہو گئی! جنگ بہت ہو گئی!"

دنیا کے 1.4 بلین کیتھولک عیسائیوں کے رہنما نے بارہا ایران کے خلاف موجودہ امریکہ-اسرائیل جنگ میں کمی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پیر کے روز پوپ افریقہ کے 11 روزہ دورے کے لیے الجزائر روانہ ہوں گے جہاں وہ عالمِ اسلام سے دوستانہ روابط کا پیغام لے کر آئیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں