لبنان و شام کا سرحدی معاہدہ، غیر قانونی اسلحہ نقل و حمل پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان اور شام کے درمیان ''المصنع ''سرحدی گزرگاہ کے چند روز بعد دوبارہ فعال ہونے کے بعد ایک لبنانی سیاسی ذریعے نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم یہ سرحدی راستہ اسلحہ کی اسمگلنگ کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔

انہوں نے العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزرگاہ قانونی، سرکاری طور پر منظور شدہ اور ریاستی اداروں کی نگرانی میں ہے۔

مزید انہوں نے زور دیا کہ ریاست نے پہلے ہی تمام انتظامی اقدامات اور افرادی تعیناتی اس انداز سے کی ہے تاکہ اس سرحدی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔

سخت اقدامات

اس حوالے سے ذریعے نے مزید وضاحت کی کہ لبنان اور شام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور شامی جانب بھی اسمگلنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، چاہے وہ سرکاری سرحدی گزرگاہیں ہوں یا غیر قانونی راستے۔

انہوں نے کہا کہ ''المصنع'' سرحدی گزرگاہ کے ذریعے اسلحہ اسمگلنگ کی تمام باتیں بے بنیاد ہیں اور ان کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان اور شام دونوں طرف سے اس مقام پر کیے گئے اقدامات کی وجہ سے اسلحہ کی اسمگلنگ تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ ''المصنع ''سرحدی گزرگاہ حال ہی میں دوبارہ کھولی گئی ہے، جب اسرائیلی فوج نے اسے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں سے جوڑ کر نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، تاہم سفارتی کوششوں کے باعث یہ حملہ روک دیا گیا۔

لبنان اور شام کے درمیان تقریباً 6 قانونی سرحدی گزرگاہیں موجود ہیں، لیکن ''المصنع'' سب سے اہم تجارتی اور انسانی آمدورفت کا راستہ ہے، جو لبنان کو عرب ممالک کی منڈیوں سے زمینی راستے کے ذریعے جوڑتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کی بڑی تعداد اسی راستے سے سفر کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں