آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق عباس عراقچی کے بیان پرایران کا پہلا سرکاری ردعمل سامنے آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے چند روز قبل آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ٹویٹ پر پیدا ہونے والی تنقید کی لہر کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان نے باضابطہ طور پر اس معاملے پر ردعمل دیا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا عباس عراقچی کا ٹویٹ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور عسکری حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد آیا تھا ترجمان اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ وزارت خارجہ کوئی بھی کام بغیر ہم آہنگی کے نہیں کرتی ہے۔

اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ وزارت خارجہ ایک سفارتی ادارہ ہونے کے ناطے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتی ہے۔

اس قدر اہم فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام مطالعاتی مراحل میں اپنی ماہرانہ آراء اور نقطہ نظر کو احتیاط سے پیش کرتے ہیں مگر حتمی فیصلہ خاص طور پر اتنے اہم موضوعات پر ملک کے متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی سے ہی کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے وضاحت کی کہ عباس عراقچی کا ٹویٹ ایک ایسے سمجھوتے کا حصہ تھا جس پر لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکہ کی جانب سے وعدوں کی پاسداری نہ ہونے کے باعث مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ٹویٹ محض اس بات کی تصدیق تھی کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے وعدوں کو پورا کرے گا اور امریکی فریق کے ساتھ معاہدے کا متن بہت واضح تھا جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل تھا جس کے بدلے آبنائے کو کھولا جانا تھا۔

یاد رہے کہ وزیر خارجہ نے گذشتہ جمعہ کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تاہم ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل جس کی سربراہی محمد باقر ذوالقدر کر رہے ہیں بعد میں سامنے آئی اور واضح کیا کہ آبنائے کو صرف لبنان میں جنگ بندی کی مدت کے اختتام تک عارضی اور مشروط طور پر کھولا گیا ہے جس سے صرف تجارتی جہاز گزر سکتے ہیں جبکہ دشمن ممالک کے جنگی یا غیر عسکری جہازوں کو اجازت نہیں ہے اور یہ عمل ایرانی مسلح افواج کی نگرانی اور متعین کردہ راستوں کے تحت ہوگا۔

دوسری جانب ایرانی شخصیات نے عباس عراقچی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ منظر اس واقعے کی یاد دلاتا ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں پر معافی مانگی تھی اور بعد میں انہیں اپنے بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاسداران انقلاب کے ایک مشیر نے اشارہ دیا تھا کہ عسکری ادارہ اس بات پر برہم تھا کہ عباس عراقی نے آبنائے کھولنے کے اعلان کے لیے ان سے کوئی ہم آہنگی نہیں کی تھی۔

بعد ازاں پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر سے امریکی محاصرہ ہٹنے سے پہلے نہیں کھلے گی۔

اس تضاد نے ایران کے سیاسی ایوانوں میں فیصلہ کرنے والے ادارے کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں