ایرانی پرچم بردار جہاز چھے گھنٹے تک انتباہ کا جواب دینے میں ناکام رہا: سینٹ کام

متحارب فریقین چھے گھنٹے تک روبرو تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اتوار کے روز کہا کہ چھے گھنٹے تک آمنے سامنے ایک تعطل کی حالت میں کھڑے رہنے کے بعد امریکی افواج نے ایرانی پرچم والے مال بردار جہاز پر فائرنگ کر دی جو ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی طرف جا رہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جہاز کو روک لیا گیا تھا۔ سینٹ کام کی جانب سے یہ بیان اس اعلان کے بعد آیا۔

سینٹ کام کے بیان میں یہ انکشاف ہوا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروانس (ڈی ڈی جی 111) نے ایم/وی توسکا کو روکا "جب اس نے بندر عباس جاتے ہوئے شمالی بحیرۂ عرب عبور کیا۔"

نیز کہا گیا کہ امریکی افواج نے متعدد انتباہات جاری کیے اور ایرانی پرچم بردار جہاز پر واضح کیا کہ وہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

"توسکا کا عملہ چھے گھنٹے میں بار بار وارننگ کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد سپروانس نے جہاز کو اپنے انجن روم کو خالی کرنے کی ہدایت کی" اور ڈسٹرائر جہاز کی ایم کے 45 گن سے توسکا کے انجن روم پر کئی راؤنڈ فائر کیے۔

سینٹ کام کے بیان کے ہمراہ ویڈیو میں یو ایس ایس سپروانس کے ایک رکن کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "موٹر ویسل توسکا، موٹر ویسل توسکا، اپنا انجن روم خالی کر دیں، اپنا انجن روم خالی کر دیں۔ ہم آپ کو روکنے کے لیے فائرنگ کرنے کو تیار ہیں۔"

اس کے بعد امریکی میرینز نے ایرانی پرچم بردار جہاز پر حملہ کر دیا، سینٹ کام نے اس کارروائی کی ایک الگ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا۔

سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا، "امریکی افواج نے احکام کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے طے شدہ، پیشہ ورانہ اور متناسب طریقے سے کام کیا۔ ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے امریکی افواج نے 25 تجارتی جہازوں کو واپس مڑ جانے یا کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں