من طهران (أرشيفية- فرانس برس)
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل پر نظر رکھنے والے حلقوں میں اس وقت بے یقینی کی صورت حال ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ نئی ایرانی تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران تہران نے موقف اپنایا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ دوسرے ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے منگل کے روز کہا "امریکہ اب اس قابل نہیں رہا کہ وہ آزاد ریاستوں کو اپنی پالیسیوں پر چلنے کے لیے مجبور کرے"۔ ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو اپنے غیر قانونی اور غیر منطقی مطالبات سے دست بردار ہونا پڑے گا۔
کرغزستان کے دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران ایرانی نائب وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ "تہران آزاد ممالک، بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے"۔ ادھر اس سے قبل ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے آج واضح کیا کہ ان کے ملک کو توقع ہے کہ "پہلے محدود پیمانے پر لڑائی دوبارہ شروع ہو گی اور اس کے بعد مذاکرات کا مرحلہ آئے گا"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی حالیہ ایرانی تجویز پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔ با خبر حکام کے مطابق اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ امریکی صدر 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اس تجویز کو قبول کریں۔
امریکی چینل 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخائر اور فوجی سطح کی افزودگی جیسے سوالات حل کیے بغیر ایرانی بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرہ ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو کھولنا واشنگٹن کے ہاتھ سے مذاکرات کا ایک اہم ترین کارڈ چھین سکتا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاد رہے کہ ایرانی تجویز میں کہا گیا تھا کہ جوہری پروگرام پر بحث کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی سے متعلق تنازعات کے حل تک موخر کر دیا جائے۔ تاہم واشنگٹن کے لیے اسے تسلیم کرنا مشکل ہے، کیونکہ وہ شروع سے ہی اس بات پر بضد ہے کہ جوہری مسائل کا حل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
فریقین کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کی امیدیں اس وقت مزید کم ہو گئیں جب گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ دنوں میں تنازع کے حل کی تجاویز پہنچانے کے لیے اسلام آباد کے دو مسلسل دورے کیے تھے۔ پاکستان اب بھی فریقین کے درمیان قابل قبول اتفاق رائے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ جنگ کے دوبارہ چھڑنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔