ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاملات کرنے والے اداروں کو امریکی پابندیوں کی دھمکی

امریکی وزیر خزانہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ انتباہ اس مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کرنے والے ادارے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بیسنٹ نے اس انتباہ کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی مہم کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے آغاز میں رپورٹ دی تھی کہ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اپنی تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان طے شدہ پروازوں میں ترکیہ اور عراق سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کا "مالی گلا گھونٹ" رہا ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا "پابندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاملات امریکی پابندیوں کے خطرے کو دعوت دیتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا "غیر ملکی حکومتوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ان طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، بشمول ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، لینڈنگ فیس یا دیکھ بھال کی سہولیات"۔

امریکی انتظامیہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پابندیوں کے علاوہ اس میں بحری محاصرہ بھی شامل ہے جس کا مقصد ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے یا وہاں جانے والے جہازوں کو روکنا ہے۔ اس تناظر میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ محاصرے کے آغاز سے اب تک ایران جانے والے یا وہاں سے آنے والے 37 بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کے روز چین کی ریفائننگ کمپنی ہینگلی پیٹرو کیمیکل (ڈالیان) کو ایران کے ساتھ تعلقات کی بنا پر اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی وزیر خزانہ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران سے وابستہ 34.4 کروڑ ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی والیٹس منجمد کر رہا ہے اور تہران کو "رقم کی فراہمی، منتقلی اور اسے واپس ملک لے جانے" سے روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اسی دوران امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے نام نہاد "شیڈو فلیٹ" (خفیہ بحری بیڑے) سے وابستہ تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں