23 مارچ 2026 کو امریکی اور ایرانی پرچموں کی تمثیل۔ (رائٹرز)

امریکہ کو 48 گھنٹوں میں اہم نکات پر ایران کے جواب کی توقع ہے: ایکسیاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ وہ ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت پر ایران سے معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ ہو اور مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک ترتیب پائے، میڈیا ادارے ایکسیاس نے بدھ کے روز دو امریکی حکام اور معاملے سے واقف دو دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ابھی تک کسی بھی بات پر اتفاق نہیں ہوا ہے لیکن کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے فریقین کسی معاہدے کے قریب ترین مقام پر ہیں۔ اس کے مطابق امریکہ اگلے 48 گھنٹوں میں کئی اہم نکات پر ایرانی ردعمل کی توقع کر رہا ہے۔

ایکسیاس نے کہا، دیگر دفعات کے علاوہ اس معاہدے میں ایران کا جوہری افزودگی پر پابندی عائد کرنا، امریکہ کا اپنی پابندیاں ہٹانے اور اربوں ڈالرز کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر راضی ہونا اور فریقین کا آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر سے پابندیاں اٹھانا شامل ہو گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وِٹ کوف اور جیرڈ کشنر اور متعدد ایرانی حکام کے درمیان ایک صفحے کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر براہِ راست اور ثالثین کے ذریعے گفتگو جاری ہے۔

ایکسیاس نے مزید کہا، یادداشت اپنی موجودہ شکل میں خطے میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے کو کھولنے، ایران کا جوہری پروگرام محدود کرنے اور امریکی پابندیاں ہٹانے کے تفصیلی معاہدے پر 30 روزہ مذاکرات کے آغاز کا اعلان کرے گی۔

ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے ایکسیاس نے کہا، ایران کی آبنائے کے ذریعے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکہ کی بحری ناکہ بندی ان 30 دنوں کے دوران بتدریج ختم ہو جائے گی۔ اہلکار نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو جائیں تو امریکی افواج ناکہ بندی بحال یا فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکیں گی۔

امن کی کوششوں میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بدھ کے روز رائٹرز سے ایک صفحے پر مشتمل میمو کا ذکر کیا جس سے اس بارے میں ایکسیاس کی رپورٹ کی تصدیق ہو گئی ہے۔

"ہم اسے بہت جلد طے کر لیں گے۔ ہم قریب آ رہے ہیں،" ذریعہ نے کہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بحری مشن روک دیا جس کے بعد ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ امن معاہدہ صرف اسی صورت میں قبول کرے گا جب یہ "منصفانہ" ہو۔

ایکسیاس کی رپورٹ کے بعد امریکی سٹاک انڈیکس فیوچرز میں تیزی آئی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں